وفاقی حکومت نے جمعے کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 2 پیسے فی لیٹر اضافہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔
نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 391 روپے 30 پیسے اور ڈیزل 408 روپے 53 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں ہفتہ 26 ستمبر سے پیر 28 ستمبر تک نافذ رہیں گی۔ حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں وصول کر رہی ہے۔
قیمتوں کا اب تک کا سفر
ڈان کے مطابق 28 فروری کو امریکا ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیزل کی قیمت 281 روپے سے بڑھنا شروع ہوئی تھی اور 3 اپریل کو 520 روپے 35 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح پیٹرول مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے سے بڑھ کر 3 اپریل کو 458 روپے 41 پیسے تک پہنچ گیا تھا۔
17 جولائی کو وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر اب فیول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے کی جائیں گی اور یہ ذمہ داری اوگرا کو سونپی گئی ہے۔
عوام پر اثرات
پیٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اس لیے اس کی قیمت میں ردوبدل کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ ڈیزل بڑی مال بردار گاڑیوں، بجلی گھروں اور جنریٹروں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس میں کمی کا اثر مال برداری کے اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر فیول کی بچت کے لیے کفایت شعاری اقدامات دوبارہ نافذ کر چکی ہے، جن کے تحت بازار رات 9 بجے بند کیے جا رہے ہیں اور سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔