برطانیہ کی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے پیر کو کہا ہے کہ مغربی انگلینڈ میں آر اے ایف فیئرفورڈ ایئربیس کے قریب گرفتار کیے گئے پانچ افراد کو ضمانت پر رہا کیا جائے گا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحقیقات ختم ہو گئی ہیں۔
واقعہ کیا تھا؟
سی این این کے مطابق یہ افراد اتوار کی صبح ایئربیس کے قریب گرفتار کیے گئے تھے۔ اس اڈے سے امریکی بی ون بمبار طیارے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے پرواز کرتے رہے ہیں۔ اے بی سی نیوز کے مطابق انہیں دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم اور دہشت گردی کی تیاری کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔
اے بی سی نیوز کے مطابق مشتبہ گاڑیوں کے گرد 400 میٹر کا حفاظتی حصار قائم کیا گیا اور احتیاطاً تقریباً 85 گھرانوں کو گھروں سے نکالا گیا۔ گرفتار افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور ممکنہ محرک کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔
پولیس اور حکومت کا مؤقف
سی این این کے مطابق انسدادِ دہشت گردی پولیس کے سینئر افسر لارنس ٹیلر نے کہا کہ پانچوں افراد کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں ہوں گی اور پولیس ہر پہلو سے واقعے کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ کوئی غیر ملکی ریاست براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہو۔
وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ ہنگامی امور سے متعلق حکومتی کمیٹی کوبرا کے اجلاس کی صدارت کریں گے تاکہ صورتحال کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔ لندن میں امریکی سفارتخانے نے برطانیہ میں موجود امریکی شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
ذرائع: سی این این، اے بی سی نیوز