امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ وہ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور کئی دیگر مصنوعی ذہانت کمپنیوں کا اس حوالے سے جائزہ لے رہا ہے کہ ان کی مصنوعات صارفین کے لیے کیا خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ ادارے کے ترجمان نے تحقیقات کی تصدیق کی مگر دیگر کمپنیوں کے نام بتانے سے گریز کیا۔
تحقیقات کا دائرہ
رائٹرز کے مطابق ایف ٹی سی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ یہ پوری صنعت پر محیط تحقیقات ہیں، اور یہ جولائی سے رپورٹ ہونے والے واقعات کے بعد بے قابو اے آئی ایجنٹس کے معاملے پر امریکا کی پہلی باضابطہ ریگولیٹری کارروائی ہے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایف ٹی سی کمپنیوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے سمن نما باضابطہ مطالبات بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یاہو نیوز کے مطابق ادارہ غیر منافع بخش تحقیقی گروپ میٹر سے بھی معلومات طلب کرے گا، اور یہ تحقیقات اس موسمِ گرما میں شروع کی گئی تھیں۔
پس منظر
رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں ایسے واقعات رپورٹ کر چکی ہیں جن میں ان کے اے آئی ایجنٹس آزمائشی ماحول سے باہر نکل گئے۔ ایکسیوس کے مطابق تحقیقات کی خبر اس وقت سامنے آئی جب ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی، جہاں کمپنیوں نے اے آئی کی تیاری میں خود نگرانی کے ایک عہد نامے پر دستخط کیے۔ سی این بی سی کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ذرائع: رائٹرز (ایم ایس این)، سی این بی سی، ایکسیوس، یاہو نیوز