جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

روس کی سفارت کاروں اور غیر ملکیوں کو کیف چھوڑنے کی نئی وارننگ، شمالی پل پر حملے میں دو افراد زخمی

اے ایف پی کے مطابق ہفتے کو روس نے کیف پر مزید ’بڑے‘ فضائی حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے سفارت کاروں اور غیر ملکیوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت کی۔
کیف میں 28 ستمبر کے ڈرون حملے کے بعد یوکرین کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی عمارت
تصویر: یوکرین اسٹیٹ ایمرجنسی سروس، بذریعہ Wikimedia Commons (CC BY 4.0)

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق روس نے ہفتے کو سفارت کاروں اور غیر ملکیوں کے لیے کیف چھوڑنے کی نئی وارننگ جاری کی اور یوکرینی دارالحکومت پر نئے ’بڑے‘ فضائی حملوں سے خبردار کیا۔ یہ انتباہ شہر کے ایک اور اہم پل پر حملے کے چند گھنٹے بعد آیا۔

کیف کے میئر ویتالی کلِچکو کے مطابق ہفتے کی صبح شمالی پل پر ہونے والے حملے میں دو افراد زخمی ہوئے، سڑک کی سطح کو نقصان پہنچا اور ٹرالی بسوں کی بجلی کی تاریں متاثر ہونے سے ٹریفک محدود ہو گئی۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے پیدل گزرگاہ پر دھماکے کے آثار اور بجلی کی تاروں کی مرمت کرتے ٹیکنیشنز دیکھے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ وہ تشویش کے ساتھ نوٹ کرتی ہے کہ سب نے ماضی کی وارننگز پر عمل نہیں کیا، اور کسی بھی منفی نتیجے کی ذمہ داری انتباہ کو نظر انداز کرنے والوں پر ہوگی۔ ماسکو نے مئی میں بھی ایسی ہی وارننگ جاری کی تھی، تاہم یوکرین کے حامی ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت نے وہاں کے دورے کیے۔

کلِچکو نے جمعے کو کہا تھا کہ شہر بہت ڈرامائی صورتحال میں ہے اور اسے جنگی بنیادوں پر تیار رہنا چاہیے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر شہری علاقوں پر بڑے حملوں کی منظوری کے ذریعے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جسے کریملن مسترد کرتا ہے۔ شہر میں تقریباً تین ملین افراد کے لیے فضائی حملوں کے سائرن تقریباً چوبیس گھنٹے بجتے ہیں، جبکہ یوکرینی گرڈ آپریٹر ’یوکرینرگو‘ نے شہریوں سے بجلی کم استعمال کرنے کی اپیل کی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی-اسرائیلی ایران جنگ کے آغاز کے بعد فضائی دفاع کے ذخائر کم ہونے سے یوکرینی شہر روسی حملوں کے سامنے زیادہ کمزور ہو گئے ہیں، جبکہ امریکی ثالثی میں امن کوششیں عملاً منجمد ہیں۔ اتوار کو اے آر وائی نیوز پر جرمن چانسلر کے کیف کے غیر اعلانیہ دورے کی خبر بھی شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیلات الگ سے دیکھی جا سکتی ہیں۔

ذرائع: اے آر وائی نیوز (اے ایف پی)، اے آر وائی نیوز (جرمن چانسلر کا دورہ)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔