جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

آئی ایم ایف مذاکرات اس ہفتے مثبت انداز میں مکمل ہونے کا امکان، 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات میں میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز پر بات چیت جاری ہے اور عملی سطح کے معاہدے کی توقع آئندہ چند دن میں ہے۔
پاکستانی روپے کا کرنسی نوٹ
علامتی تصویر: Shiana1، CC0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات اس ہفتے کے اختتام تک مثبت پیش رفت کے ساتھ مکمل ہونے کا امکان ہے۔ ڈان کے مطابق اس سے سات ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف مشن کی قیادت آئیوا پیٹروا کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریق ششماہی جائزے کے بنیادی نکات طے کرنے کے بعد میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ڈان کے مطابق ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کے سوا فنڈ کی جانب سے کوئی نیا مطالبہ سامنے نہیں آیا اور محصولات کا ہدف برقرار ہے۔ جیو نیوز نے دی نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشن بدھ تک اسلام آباد میں رہے گا اور اگر موجودہ مذاکرات میں اتفاق نہ ہوا تو باقی نکات آن لائن بات چیت میں طے کیے جائیں گے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے آئندہ چند روز میں معاہدے کی امید ظاہر کی۔

ڈان کے مطابق حکومت سردیوں کے تین مہینوں کے لیے ایل این جی درآمدی منصوبے کو بھی حتمی شکل دے رہی ہے۔ گیس کمپنیوں نے کم از کم 22 کارگو مانگے تھے، جبکہ توانائی ٹاسک فورس نے 10 سے 12 کارگو کی کوشش کا وعدہ کیا ہے۔ دونوں فریق جنوری سے بی آئی ایس پی کے ذریعے گیس اور بجلی کے لیے ہدف شدہ سبسڈی پر عملدرآمد تیز کرنے پر بھی متفق ہیں، جبکہ گیس شعبے کا گردشی قرض 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جیو کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق سرکاری اداروں کی ملکیت اور انتظام کی پالیسی میں بھی ترمیم کی ہے۔

ذرائع: ڈان، جیو نیوز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔