جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

یمن میں لڑائی شدید، ایک دن میں 270 سے زائد فوجی اور جنگجو ہلاک: خبر رساں ادارے

اے ایف پی کے مطابق دونوں جانب کے ذرائع نے 24 گھنٹوں میں 270 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع دی؛ حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ کیا۔
فائل تصویر: یمن کے شہر تعز کا ایک منظر (تصویر موجودہ لڑائی کی نہیں)
فائل تصویر: تعز، یمن | تصویر: المصور أنس الحاج، لائسنس: CC BY-SA 2.0 (ویکی میڈیا کامنز)

اے ایف پی کے مطابق یمن میں منگل کو ختم ہونے والے گزشتہ 24 گھنٹوں میں لڑائی کے دوران 270 سے زائد سرکاری فوجی اور حوثی جنگجو ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار دونوں جانب کے گمنام ذرائع نے فراہم کیے ہیں اور آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سرکاری ذرائع نے 115 فوجیوں کی ہلاکت جبکہ حوثی فوجی ذرائع نے 160 جنگجوؤں کے مارے جانے کا بتایا، جن کے بقول زیادہ تر ہلاکتیں سعودی فضائی حملوں میں ہوئیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق لڑائی کا مرکز جنوب مغربی یمن اور باب المندب کی آبی گزرگاہ کے اطراف ہے۔ حوثیوں نے پیر کو ریاض کے ہوائی اڈے اور سعودی کمپنی آرامکو کی ایک ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ سعودی حکام نے ہوائی اڈے کی بندش یا حملوں کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں کی، تاہم سعودی شہری ہوابازی اتھارٹی کے مطابق جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کے پاس گزشتہ ماہ حاصل کیے گئے تمام علاقے بدستور موجود ہیں، جبکہ سرکاری فورسز نے کئی محاذوں پر کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری فوجی ذرائع نے مخا شہر پر دوبارہ قبضے کی تصدیق نہیں کی اور صرف یہ کہا کہ وہاں پہنچنے کا واحد سپلائی راستہ کاٹ دیا گیا ہے۔ الجزیرہ کی بدھ کی لائیو رپورٹ کے مطابق حوثی میزائل عدن کے ہوائی اڈے پر لگے جبکہ ایک اور میزائل ریاض کے اوپر روک لیا گیا؛ یمنی فورسز نے تعز میں جبل حبشی کی بلند ترین چوٹی پر گرفت مضبوط کرنے کا دعویٰ کیا۔

حوثیوں کی وزارتِ صحت کے مطابق حجہ میں ایک سعودی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد، جن میں چار بچے شامل ہیں، جاں بحق ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ساحلی علاقوں میں لڑائی کے باعث 184,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے لڑائی میں شدید اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

ڈان کے مطابق پاکستان اور ترکیہ نے پیر کو باہمی دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت حوثیوں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں صرف سعودی افواج شریک ہیں جبکہ پاکستانی اور ترک دستے معاون کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر محمود اشرفی نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ ڈرون یا میزائل حملوں اور حساس مقامات کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کریں اور صرف سرکاری سعودی ذرائع سے معلومات لیں۔

ذرائع: ڈان / اے ایف پی، الجزیرہ: لائیو اپڈیٹس

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔