جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

فیصل آباد میں پاور لوم صنعت بحران کا شکار: 40 فیصد یونٹس بند، ایک لاکھ مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا دعویٰ

ڈان کے مطابق چینی یارن اور کپڑے کی درآمد، بلند یوٹیلیٹی بلوں اور ٹیکسوں کے باعث چھوٹے پاور لوم یونٹس بند ہو رہے ہیں؛ صنعت کار درآمدی ویلیو کی کڑی جانچ مانگ رہے ہیں۔
فائل تصویر: فیصل آباد کا گھنٹہ گھر (تصویر پاور لوم سیکٹر کی نہیں)
فائل تصویر: گھنٹہ گھر، فیصل آباد | تصویر: Usman Nadeem، لائسنس: CC BY-SA 4.0 (ویکی میڈیا کامنز)

ڈان کی رپورٹ کے مطابق چین سے یارن اور گرے کپڑے کی بڑھتی درآمدات، بلند یوٹیلیٹی بلوں اور ٹیکسوں کے باعث چھوٹے پاور لوم یونٹس کی بڑی تعداد بند ہو گئی ہے۔ ڈان کو معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 8 لاکھ پاور لومز پر مشتمل شعبے میں قریباً 40 فیصد یونٹس بند ہو چکے ہیں؛ صورتحال فیصل آباد اور اس کے مضافاتی شہروں میں زیادہ سنگین بتائی گئی ہے۔

ٹیکسٹائل، پاور لوم اینڈ گارمنٹ ورکرز یونین فیصل آباد کے صدر اسلم معراج نے ڈان سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایک لاکھ سے زائد پاور لوم مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں اور لومز روزانہ بند کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق درآمد شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات مقامی مصنوعات سے سستی ہیں۔ یہ دعویٰ یونین کا ہے اور رپورٹ میں اس کی آزادانہ تصدیق کا ذکر نہیں۔

فیصل آباد سائزنگ ملز ایسوسی ایشن کے صدر شکیل انصاری کے مطابق مقامی طور پر تیار یارن سے گرے کپڑے سے لے کر تیار ملبوسات تک بنائے جاتے ہیں، مگر چینی درآمدات نے منڈی کا بڑا حصہ لے لیا ہے۔ انہوں نے سرحدوں کی بندش کو بھی ایک وجہ قرار دیا جس سے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو مقامی کپڑے کی ترسیل متاثر ہوئی، جبکہ خیبر پختونخوا کی طرف جانے والے راستوں کی بندش سے گرے کپڑے کی تجارت اور وہاں کے تاجروں سے ادائیگیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ 44 پاور لومز کے مالک محمد صابر نے چینی دھاگے اور دیگر ٹیکسٹائل اشیا کی درآمد کی اجازت پر حکومت پر تنقید کی۔

کونسل آف لوم اونرز ایسوسی ایشن نے وزیرِ تجارت جام کمال کو خط لکھ کر درآمدی ویلیو ایشن پر کڑی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے اور تجویز دی ہے کہ درآمد کنندگان پاکستان میں جمع کرائے جانے والے گڈز ڈیکلریشن کے ساتھ چینی ایکسپورٹ کسٹمز ڈیکلریشن کی نقل بھی جمع کرائیں۔ ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ چین سے بعض اشیا کم ظاہر کی گئی قیمت پر پاکستان آتی ہیں تاکہ ڈیوٹیاں اور ٹیکس کم دیے جائیں۔ خط میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے کسٹمز کے درمیان الیکٹرانک ڈیٹا ایکسچینج کا نظام موجود ہے، مگر اسے کنسائنمنٹ کی سطح پر قیمت کی تصدیق کے لیے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں اس معاملے پر حکومتی مؤقف شامل نہیں۔

ذرائع: ڈان (Dawn)

ماخذ: ڈان (Dawn)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔