وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ وفاقی وزرا نے پیر کو عندیہ دیا کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا منصوبہ واپس نہ لیا تو صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے، تاہم ڈان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس انتباہ کے باوجود مارچ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
وفاقی وزرا کیا کہتے ہیں؟
عرب نیوز کے مطابق وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر امیر مقام نے دعویٰ کیا کہ ان کے خیال میں صوبے میں گورنر راج کی شرائط پوری ہو چکی ہیں، جبکہ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی تقاضے پورے ہوں تو ایمرجنسی لگائی جانی چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مارچ مزید مؤخر کرے اور مرکز کو سخت قدم اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔ دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران صوبائی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کی کارکردگی اور وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔ پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔
وزیراعلیٰ کا مؤقف
پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کے باعث اپنا مؤقف تبدیل نہیں کریں گے۔ انہوں نے ایک نئی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کا مطالبہ دہرایا جس کی تیاری میں صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مجوزہ پالیسی پر عمل ہو تو 100 دن میں صوبے میں امن بحال کیا جا سکتا ہے۔
اتحادیوں کا شکوہ
ڈان کے مطابق اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کرنے کا فیصلہ اسے اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا، تاہم اتحاد نے 4 اکتوبر کے مارچ میں بھرپور شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی یہ مارچ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے کر رہی ہے۔
ذرائع: ڈان، ڈان (پیر کی رپورٹ)، عرب نیوز