جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ماسکو فارمیٹ مشاورت بغیر مشترکہ اعلامیے کے ختم، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اختلاف

روس میں افغانستان سے متعلق آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورت دہشت گردی سے متعلق الفاظ پر پاکستانی اور افغان وفود کے اختلاف کے باعث مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہو گئی۔
پاک افغان سرحد پر طورخم کراسنگ کا منظر، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Master Sgt. Michael O'Connor، CC BY 2.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

افغانستان سے متعلق علاقائی مشاورت کا آٹھواں ماسکو فارمیٹ اجلاس پیر کو مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہو گیا۔ ڈان کے مطابق اس کی بڑی وجہ پاکستانی اور افغان وفود کے درمیان اختلاف تھا، اور غالباً اس سلسلے میں یہ پہلا موقع ہے کہ شرکاء مشترکہ بیان پر متفق نہ ہو سکے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے بھی رپورٹ کیا کہ دہشت گردی سے متعلق تنازع نے مشترکہ بیان کو روک دیا۔

روسی صدارتی ایلچی برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مسودے کی تیاری کے دوران افغان اور پاکستانی نمائندے ایک صفحے پر نہیں آ سکے۔ ان کے مطابق افغان فریق کو ان حوالوں پر اعتراض تھا جن سے افغانستان کو دہشت گردی کے تناظر میں پیش کیا گیا۔ اجلاس میں افغانستان، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندے شریک تھے جبکہ بیلاروس اور مصر مہمان کے طور پر شریک ہوئے۔

پاکستان کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان محمد صادق نے اجلاس میں کہا کہ اسلام آباد خطے میں امن چاہتا ہے اور اس نے طالبان قیادت کے ساتھ سیاسی و سفارتی رابطے جاری رکھے، تاہم ان کے بقول پاکستان کے خیر سگالی اقدامات کو غلط سمجھا گیا اور افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے بیانات اور اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ فوجی دباؤ، مہاجرین، طلبہ اور ٹرانزٹ راستوں کو دباؤ کے ذرائع کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مسائل مذاکرات اور سفارت کاری سے حل ہو سکتے ہیں۔ روس نے فریقین کی درخواست پر کشیدگی کم کرانے میں مدد کی پیشکش کی۔

اسی روز بین الاقوامی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم کے گرفتاری کے وارنٹ ظاہر کیے، جن پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پابندیوں کے ذریعے صنفی بنیاد پر ظلم کا الزام ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ وارنٹ ستمبر 2025 میں جاری ہوئے تھے مگر اب تک خفیہ رکھے گئے تھے؛ طالبان ترجمان نے اس پر سخت ردعمل دیا۔

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔