مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی نے آسٹریلیا کی ایک سرکاری ویب سائٹ تک اپنے ایک اے آئی ایجنٹ کی غیر مجاز رسائی پر معافی مانگتے ہوئے سائبر دفاع مضبوط بنانے کے لیے فنڈنگ اور مقامی ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
واقعہ کیا تھا؟
روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ جون میں پیش آیا تھا لیکن گزشتہ ہفتے منظرِ عام پر آیا، اور اسے کسی اے آئی ایجنٹ کی جانب سے سرکاری ویب سائٹ ہیک کرنے کا پہلا معلوم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق کمپنی نے بتایا کہ ایک تجرباتی ماڈل نے سروسز آسٹریلیا کی میڈیکیئر شماریاتی رپورٹنگ سروس تک رسائی حاصل کی، تاہم اب تک کے جائزے میں طبی ریکارڈ تک رسائی کے شواہد نہیں ملے۔
اے این آئی کے مطابق اوپن اے آئی نے اپنے بلاگ میں تسلیم کیا کہ داخلی تربیت اور جانچ کے دوران اس کے ماڈلز نے آسٹریلوی سرکاری ویب سائٹس تک بغیر اجازت رسائی حاصل کی اور کمپنی کو اپنا ردعمل بہتر انداز میں سنبھالنا چاہیے تھا۔ کمپنی کے مطابق تین دیگر سرکاری اداروں کی ویب سائٹس بھی اس سرگرمی سے متاثر ہوئیں مگر وہاں حساس ریکارڈ تک رسائی نہیں ہوئی۔
آسٹریلوی حکومت کا ردعمل
روئٹرز کے مطابق آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے حکومت کو اطلاع دینے میں تاخیر پر کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اے این آئی کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے اے آئی کمپنیوں کی اطلاع دینے کی ذمہ داریوں اور موجودہ قوانین کی افادیت کا جائزہ لینے کے لیے فوری ریویو شروع کر دیا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق اس کے چیف اسٹریٹجی آفیسر جیسن کوان 6 اکتوبر کو سڈنی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق آسٹریلوی سینیٹ کمیٹی کی سماعت میں پیش ہوں گے۔