ماہرین اور مالیاتی شعبے کے اندازوں کے مطابق خلیجی جنگ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ستمبر میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی متوقع ہے۔ ڈان کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ستمبر میں صارف قیمتوں کا اشاریہ (سی پی آئی) سالانہ بنیاد پر 10.25 سے 10.75 فیصد کے درمیان رہے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی تھی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق متوقع کمی زیادہ نمایاں نہیں۔
تیل کی قیمتیں سب سے بڑا عنصر
مالیاتی شعبے کو توقع ہے کہ ستمبر کے باقی دنوں اور اکتوبر میں خام تیل 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہے گا۔ تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد صورتحال پھر بدل گئی ہے اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان تیل و گیس کی تقریباً 70 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے مہنگائی تیل کی قیمتوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔
منی مارکیٹ کے ماہر ایس ایس اقبال کے مطابق تیل کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی کے باعث ستمبر کی درست شرح کا اندازہ لگانا آسان نہیں، اور خدشہ ہے کہ یہ گزشتہ ماہ کے قریب ہی رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی، رہائش، خوراک اور تعمیراتی لاگت میں اضافہ بھی مہنگائی کو توقع سے اوپر لے جا سکتا ہے۔
شرح سود پر اثر
ٹاپ لائن کے مطابق اس تخمینے کی بنیاد پر حقیقی شرح سود 75 سے 125 بیسس پوائنٹس رہے گی، جو پاکستان کی 200 سے 300 بیسس پوائنٹس کی تاریخی اوسط سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے 21.4 ارب ڈالر سے زائد زرِمبادلہ کے ذخائر تیل کی مہنگی درآمدات کے مقابلے میں کچھ سہارا فراہم کر سکتے ہیں، لیکن طویل جنگ کی صورت میں مہنگائی کے دباؤ کو نہیں روک سکتے۔
ذرائع: ڈان