جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا ایرانی منصوبہ مسترد کر دیا، ایران کا اصرار: مسئلے کا حل صرف مذاکرات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران اپنی شرائط سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ثالثوں کے ذریعے باضابطہ امریکی جواب کا منتظر ہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کا نقشہ
علامتی تصویر: Wikideas1، CC0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور لڑائی ختم کرنے سے متعلق ایران کا سات روزہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ این پی آر کے مطابق ہفتے کو وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، اور دعویٰ کیا کہ ایران فوری معاہدہ اس لیے چاہتا ہے کیونکہ وہ جنگ میں بری طرح نقصان اٹھا رہا ہے۔

ایرانی تجویز کیا تھی؟

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر بتایا تھا کہ یہ منصوبہ قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق تجویز میں امریکا سے منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے، تیل پر پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس کے بعد آبنائے کھولنے اور ساتویں روز تک حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ایران لبنان سمیت پورے خطے میں جنگ بندی بھی چاہتا ہے۔

سی این این کے مطابق عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ شرائط جون میں طے پانے والی امریکا ایران مفاہمتی یادداشت سے زیادہ نہیں، جو بعد میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے پر ختم ہو گئی تھی۔

تہران کا ردِعمل

العربیہ کے مطابق اتوار کو عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کھولنے کا کوئی بھی قدم انہی شرائط کے پورا ہونے سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران نے امریکی صدر کا عوامی ردِعمل دیکھ لیا ہے، تاہم ثالثوں نے اب تک کوئی باضابطہ امریکی مؤقف نہیں پہنچایا اور ایران اسی کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تھی، جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ امریکا نے جواب میں ایران پر اقتصادی ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے اور ایرانی فضائی کمپنیوں سے کاروبار کرنے والے اداروں پر ثانوی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

ذرائع: الجزیرہ، العربیہ، این پی آر، سی این این

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔