اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تو درجنوں ممالک کے وفود ہال سے واک آؤٹ کر گئے اور ہال کے بڑے حصے خالی دکھائی دیے۔ رائٹرز اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا اور ناقدین پر "منافقت” کا الزام لگایا۔ انہوں نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ کے باہر احتجاج
اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر سینکڑوں افراد جمع ہوئے۔ تنظیم "جیوئش وائس فار پیس” نے فرسٹ ایونیو پر مظاہرہ منظم کیا۔ پولیس کے مطابق مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں اداکارہ سوزن سیرنڈن اور ہانا آئن بائنڈر سمیت کئی معروف شخصیات شامل تھیں۔
میئر ظہران ممدانی نے نیتن یاہو کے خطاب پر ردعمل میں کہا کہ اس میں "بے بنیاد جھوٹ” دہرائے گئے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نیتن یاہو کے خلاف عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں۔