وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کی رات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کے تناظر میں کہی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاہدے کی معطلی کی کوئی قانونی بنیاد نہیں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین اور ثالثی کی مستقل عدالت بھی بھارتی مؤقف کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے دریائے سندھ کے نظام کو پورے خطے کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔
کشمیر اور گزشتہ برس کی کشیدگی
خطاب میں وزیراعظم نے گزشتہ برس بھارت کے ساتھ مختصر فوجی تصادم کا ذکر کیا اور مئی 2025 میں جنگ بندی کرانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ایسی صورتحال سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ضروری ہے، اور پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
مشرقِ وسطیٰ، حوثی حملے اور مکہ دفاعی معاہدہ
وزیراعظم نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا، جس کے نتیجے میں جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کی اہم گزرگاہیں قرار دیتے ہوئے انہیں کھلا رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کا اجتماعی عزم ہے۔
فلسطین، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی
وزیراعظم نے 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان تقریباً ایک لاکھ جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھا چکا ہے، جبکہ افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔
انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی مالی معاونت کے وعدے پورے کریں، کیونکہ عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بار بار جھیل رہا ہے۔