جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

مولانا فضل الرحمٰن کا حکومت سے مطالبہ: پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو نہ روکا جائے

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ احتجاج ہر جماعت کا جمہوری حق ہے؛ پی ٹی آئی اور حکومتی رہنماؤں کے مؤقف بھی رپورٹ میں شامل۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی فائل تصویر
علامتی تصویر: Mhtoori، CC BY-SA 4.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے منگل کو حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ ڈان کے مطابق انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے باہر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے اور جب کوئی جماعت پُرامن رہنے کا اعلان کرے تو اس کی بات پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں مظاہرین کو داخلے سے روکنے کے لیے حکومتی اقدامات کے تناظر میں کہی۔

مولانا فضل الرحمٰن کا دعویٰ تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو سکتے تھے اگر ان کے بقول پسِ پردہ قوتیں اس عمل میں شریک نہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں لین دین ضروری ہوتا ہے۔ نام لیے بغیر انہوں نے کابینہ کے ان ارکان کا بھی ذکر کیا جنہوں نے پی ٹی آئی کے اراکین کی وفاداری پر سوال اٹھایا، اور کہا کہ ہم سب پاکستانی اور محبِ وطن ہیں۔

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، اخوندزادہ حسین اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سمیت اپوزیشن وفد نے مولانا کی عمرے سے واپسی کے بعد ان سے ملاقات کی اور انہیں کثیر جماعتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ مولانا نے کہا کہ وہ اس دعوت پر اپنی جماعت میں مشاورت کریں گے اور تمام جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ ایجنڈا سامنے آنا چاہیے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی باتوں پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سوات سے وزیرستان تک آپریشن ہو چکے مگر لوگ اب تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے، اور سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کے نام پر کب تک آپریشن ہوتے رہیں گے۔ ان کے مطابق بدامنی کے باعث صوبائی حکومت مفلوج ہو چکی ہے۔ راجہ ناصر عباس کے مطابق مولانا نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کیا۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جبر کے ذریعے عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا کی گئی ہے، اور عمران خان کی جدوجہد آئین اور قانون کی حکمرانی کی لڑائی ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ نے مذاکرات کے تعطل کا سبب حکومت کی عدم لچک کو قرار دیا اور کہا کہ پارٹی نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہراتے ہوئے اس پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی حمایت کا الزام لگایا۔ یہ دونوں فریقوں کے دعوے ہیں اور ہم نے ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔

ذرائع: ڈان (Dawn)، ایکسپریس ٹریبیون: مذاکرات کا تعطل، ایکسپریس ٹریبیون: وزیر دفاع کا بیان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔