جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین

فلائی دبئی واقعہ: نیتن یاہو کا شریک پائلٹ کی انتہا پسندانہ ذہن سازی کا دعویٰ، تحقیقات جاری

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں کپتان پر حملہ کرنے والے شریک پائلٹ کی انتہا پسندانہ ذہن سازی ہوئی تھی؛ حملہ آور کے محرکات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
فلائی دبئی کا ایک بوئنگ 737 طیارہ، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Bahnfrend، CC BY-SA 4.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں بدھ کو پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات میں نئی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فاکس نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ کپتان پر چاقو سے حملہ کرنے والے شریک پائلٹ کی اسلام پسند انتہا پسندانہ ذہن سازی ہوئی تھی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ نتیجہ کن معلومات کی بنیاد پر اخذ کیا گیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق شریک پائلٹ عمانی شہری ہے اور حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیکیورٹی کے نظام میں کہاں کمزوری رہی۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس سے متحدہ عرب امارات میں پوچھ گچھ کی جانی ہے۔ حملہ آور کے محرکات کے بارے میں تاحال کوئی آزادانہ یا سرکاری تحقیقاتی نتیجہ جاری نہیں کیا گیا۔

پرواز میں کیا ہوا؟

الجزیرہ کے مطابق پرواز ایف زیڈ 1073 اردن کی فضائی حدود سے گزر رہی تھی جب ایک پائلٹ نے دوسرے پر حملہ کیا اور طیارہ چند لمحوں میں ہزاروں فٹ نیچے آ گیا۔ مسافروں اور عملے نے مداخلت کر کے حملہ آور کو قابو کیا اور طیارے نے سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ بعد میں مسافر متبادل طیارے کے ذریعے اسرائیل پہنچے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس واقعے کو دہشت گردی کی کوشش قرار دیا ہے، تاہم سی بی ایس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک اور انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ محرک ابھی واضح نہیں۔ اس واقعے سے متعلق ابتدائی خبر گندی سیاست پر یکم اکتوبر کو شائع کی جا چکی ہے۔

ذرائع: سی بی ایس نیوز، واشنگٹن پوسٹ، الجزیرہ

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔