جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج فی الحال نافذ نہ کرنے کا فیصلہ، حکومت کی نظریں پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے مارچ پر

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں دونوں آپشنز زیرِ غور آئے مگر فوری فیصلہ نہیں کیا گیا؛ پی ٹی آئی نے مارچ پُرامن رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے غیر معمولی اقدامات سے گریز کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت
علامتی تصویر: User Waqas.usman on en.wikipedia، Public domain، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج فوری طور پر نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیو نیوز اور ڈیلی ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس میں دونوں آئینی آپشنز پر بات ہوئی، تاہم اس مرحلے پر کسی کو بھی بروئے کار لانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

حکومت کس بات کا انتظار کر رہی ہے؟

ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ رائے غالب رہی کہ آئندہ چند دنوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے طرزِ عمل کو دیکھا جائے، خاص طور پر یہ کہ آیا جماعت 4 اکتوبر کا مارچ منسوخ کرتی ہے یا نہیں۔ حکومتی مؤقف یہ بتایا گیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کشیدگی کم کرے تو صورتِ حال اب بھی سیاسی طور پر سنبھالی جا سکتی ہے۔ ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مارچ منسوخ ہونے کی صورت میں بعض معاملات، جن میں بانی پی ٹی آئی عمران خان تک بہتر رسائی بھی شامل ہو سکتی ہے، سیاسی اور انتظامی سطح پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

بدھ کو کیا کہا گیا تھا

اس سے ایک روز قبل وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وفاق آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، اور اس کی وجہ صوبائی حکومت کی دہشت گردی پر قابو پانے میں مبینہ ناکامی بتائی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ پی ٹی آئی سے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر زیرِ غور نہیں۔ دی نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی نے بھی مجوزہ گورنر راج کی حمایت کی ہے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف

دی نیشن کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ پُرامن سیاسی سرگرمی ہوگا اور حکومت کو صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی مارچ جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ جماعت نے یہ مارچ ابتدا میں 27 ستمبر کو رکھا تھا جسے بعد میں 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا؛ پی ٹی آئی اپنے بانی کی رہائی سمیت مختلف مطالبات کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنا چاہتی ہے۔

ذرائع: جیو نیوز، ڈیلی ٹائمز، دی نیوز، دی نیشن

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔