جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے، وزارتِ اطلاعات کا 22 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ

وزارتِ اطلاعات کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ افغان طالبان حکومت نے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگایا ہے۔ دونوں جانب کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاک افغان سرحد پر طورخم کراسنگ کا منظر، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Master Sgt. Michael O'Connor، CC BY 2.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

وفاقی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جمعرات کو بتایا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں پر منصوبہ بندی کے ساتھ فضائی حملے کیے ہیں۔ وزارت کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں 22 دہشت گردوں کی ہلاکت کی نشاندہی ہوئی ہے، جبکہ ٹھکانوں پر ذخیرہ کیا گیا اسلحہ اور گولہ بارود بڑی مقدار میں تباہ کر دیا گیا۔

سرکاری مؤقف

وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر دو الگ مقامات پر فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور ان سے وابستہ گروہوں کے کیمپوں کو چن کر نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق کارروائی آپریشن غضب للحق کا حصہ تھی اور اس دوران ممکنہ ضمنی نقصان سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتی گئی۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات افغان سرزمین سے جنم لے رہے ہیں اور شہریوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ عزمِ استحکام کے تحت جاری انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔

افغان حکومت کا الزام

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغانستان نے کہا ہے کہ رات گئے دو صوبوں میں ہونے والے حملوں میں 9 خواتین اور بچے جاں بحق اور 11 شہری زخمی ہوئے۔ اے ایف پی کے مطابق طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے کہا کہ حملے ہلمند اور کنڑ صوبوں میں ہوئے۔ پاکستان عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے، جبکہ افغانستان شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزام کو مسترد کرتا ہے۔ دونوں جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

پس منظر

آپریشن غضب للحق رواں سال فروری میں سرحد پر نئی جھڑپوں کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق مارچ میں جنگ بندی کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی کے مسائل کا مستقل حل نہیں نکل سکا اور وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ رواں سال سرحد پار تشدد سے ایک ہزار ایک سو سے زائد شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، آج نیوز، دی نیوز، اے پی (یو ایس نیوز)، اے ایف پی (یاہو نیوز)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔