حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی سرکاری افسران کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات عوام کے لیے جاری نہیں کی جائیں گی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا کہ دسمبر 2026 تک صرف "منتخب اور غیر حساس معلومات” شائع کی جائیں گی۔
کون سے افسران پابند ہوں گے؟
گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو ایف بی آر کے پورٹل کے ذریعے اپنے اثاثوں کے گوشوارے ڈیجیٹل طور پر جمع کرانے ہوں گے۔ اس کی آخری تاریخ 30 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، جبکہ غلطیوں کی درستگی 30 نومبر تک کی جا سکے گی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس بارے میں آفس میمورنڈم جاری کیا ہے۔
کمیٹی میں اعتراض
سیکریٹری خزانہ کے مطابق مکمل معلومات جاری نہ کرنے کی وجہ "سیکیورٹی خدشات” ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ جب صدر اور وزیر اعظم سمیت سیاست دانوں کو اپنے اثاثوں کی مکمل تفصیل ظاہر کرنی ہوتی ہے تو افسران کے لیے مختلف معیار کیوں ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیکریٹری خزانہ نے اس اعتراض کا براہ راست جواب نہیں دیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہے۔ گوشواروں کی جانچ ایف بی آر خطرے کی بنیاد پر کرے گا اور تضاد کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تادیبی کارروائی کر سکے گا۔