دستاویزی فلم سازوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) نے فلم «نازا» کے ہدایت کاروں یووال ابراہم اور راچیل سزور کے خلاف اسرائیلی حکومت کی مبینہ دباؤ کی مہم کی مذمت کی ہے۔ ڈان امیجز کے مطابق تنظیم کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اس خط پر تقریباً 300 افراد دستخط کر چکے ہیں۔
دستخط کنندگان میں دو بار آسکر ایوارڈ جیتنے والی پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے کے علاوہ ہالی وڈ اداکار مارک روفیلو اور ہاویئر بارڈیم بھی شامل ہیں۔ امریکی جریدے ڈیڈ لائن کے مطابق دستخط کرنے والوں میں لارا پوئٹرس اور ایلیکس گبنی جیسے آسکر فاتح دستاویزی فلم ساز بھی شامل ہیں۔
فلم کیا ہے؟
«نازا» میں غزہ میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کا موضوع اٹھایا گیا ہے۔ ڈان امیجز کے مطابق فلم کا نام اسرائیلی انٹیلیجنس کی ایک اصطلاح سے لیا گیا ہے جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری پرائز جیتا تھا۔
تنازع کیا ہے؟
آئی ڈی اے کا کہنا ہے کہ وینس میں ایوارڈ کے بعد سے اسرائیلی حکام فلم کے دونوں اسرائیلی ہدایت کاروں کے خلاف سرگرم ہیں اور ان پر غداری کا الزام لگایا گیا ہے۔ ڈان امیجز کے مطابق یہ خط اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجیوں یا ریاست کو بدنام کرنے والوں کی شہریت منسوخ کرنے سے متعلق قانون سازی کا اعلان کیا۔ اسرائیلی حکومت کا خط پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔