جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ڈاکٹروں کے ہفتے میں 102 گھنٹے تک کام کا معاملہ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی سے سفارشات مانگ لیں

عدالت نے درخواست کو پی ایم ڈی سی کے سامنے نمائندگی میں تبدیل کر دیا۔ سی پی ایس پی کے مطابق 18 گھنٹے کام کے بعد ڈاکٹروں کی کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے۔
لاہور کے ایک میڈیکل ادارے کی لیبارٹری، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Baitaal، CC BY-SA 3.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کے طویل اوقات کار سے متعلق درخواست کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے سامنے نمائندگی میں تبدیل کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کونسل معاملے کا جائزہ لے کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سفارشات پیش کرے۔ کیس کی سماعت جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کی۔

ڈاکٹروں کے اوقات کار

ڈان کے مطابق درخواست میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کو ہفتے میں 102 گھنٹے تک کام کرنا پڑتا ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) نے عدالت کو بتایا کہ 18 گھنٹے کام کے بعد ڈاکٹروں میں ایسی ذہنی و جسمانی سستی پیدا ہو جاتی ہے جو خون میں 0.05 فیصد الکحل کی سطح کے برابر ہوتی ہے۔

بین الاقوامی معیار

عدالت میں پیش کیے گئے حوالوں کے مطابق یورپ میں ہفتہ وار زیادہ سے زیادہ اوسط 48 گھنٹے، امریکہ میں 80 گھنٹے اور بھارت میں جونیئر ریزیڈنٹس کے لیے 48 گھنٹے ہیں۔ سی پی ایس پی نے سفارش کی کہ کلینیکل شعبوں میں ہفتہ وار 48 ڈیوٹی گھنٹے ہوں اور تربیت پانے والے ڈاکٹروں کی ہفتے میں دو سے زیادہ 12 گھنٹے کی نائٹ شفٹیں نہ ہوں۔

ماخذ: ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔