بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے امریکا ایران تنازع کے چھ ماہ کے دوران فراہمی میں خلل اور بجٹ پر اضافی بوجھ کے بغیر تیل بحران سنبھالنے پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق فنڈ نے ساتھ ہی گیس شعبے کے بڑھتے گردشی قرضے اور غریب صارفین کو ہدف شدہ سبسڈی کی فراہمی کے لیے تیاری تیز کرنے کا کہا ہے۔
گیس اور بجلی کا گردشی قرضہ
رپورٹ کے مطابق گیس شعبے کا گردشی قرضہ تقریباً 3.6 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ابتدائی مشاورت میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ گیس میٹروں کی ملکیت کے نامکمل ریکارڈ کی وجہ سے سبسڈی کو بی آئی ایس پی کے ذریعے براہِ راست نقد امداد میں بدلنے کے لیے شعبہ ابھی تیار نہیں۔ بجلی کے شعبے میں وصولیوں اور نقصانات میں کمی کے اہداف میں بہتری کو فنڈ نے تسلیم کیا، جبکہ جون 2026 کے اختتام پر بجلی کا گردشی قرضہ 1.675 کھرب روپے تھا۔ اگلے ہفتے غریب بجلی صارفین کو بی آئی ایس پی کے ذریعے براہِ راست سبسڈی دینے کے منصوبے پر بات چیت متوقع ہے۔
آٹو پالیسی پر اعتراضات
اے آر وائی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نئی آٹو پالیسی پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت بے نتیجہ رہی کیونکہ فنڈ نے مسودے کی بعض شقوں پر اعتراض کیا۔ مجوزہ آٹو پالیسی 2026 تا 2031 میں برقی گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات اور روایتی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں پانچ سال میں اسی فیصد تک کمی کی تجویز شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کو فنڈ کے خدشات سے آگاہ کرے گی۔
جائزہ مشن کا مقصد
آئی ایم ایف کا مشن سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی سہولت کا جائزہ لے رہا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق کامیاب جائزے کی صورت میں مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہو سکتی ہے۔
ذرائع: ڈان، اے آر وائی نیوز