ضلع خانیوال کے تحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتال میاں چنوں میں ڈائیلاسز کروانے والے چار مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ مریضوں میں تین خواتین شامل ہیں اور اسپتال انتظامیہ نے انہیں مزید معائنے اور علاج کے لیے نشتر اسپتال ملتان بھیج دیا ہے، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔
میاں چنوں اسپتال کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ اسپتال میں 60 سے زائد مریض ڈائیلاسز کروا رہے ہیں۔ حکام کا مؤقف تھا کہ ڈائیلاسز کے عمل سے ایچ آئی وی منتقل نہیں ہو سکتا اور وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق مزید مریضوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آ سکتے ہیں، تاہم حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
ماضی کے واقعات
نومبر 2024 میں نشتر اسپتال ملتان میں ڈائیلاسز کے تقریباً 30 مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی۔ پنجاب حکومت کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اسپتال کے نیفرولوجی یونٹ میں وبا کی تصدیق کرتے ہوئے ڈائیلاسز کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی تھی۔ مارچ 2025 میں تونسہ میں 106 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تھی۔
مفت علاج کی سہولت
پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق وہ مفت ایچ آئی وی ٹیسٹ، کونسلنگ اور علاج فراہم کرتا ہے اور لاہور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف اضلاع میں علاج کے مراکز قائم ہیں۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق دسمبر 2025 تک ملک میں 84 ہزار 421 کیسز رجسٹرڈ تھے، جن میں سے 60 ہزار 785 مریض 98 مراکز پر اینٹی ریٹرو وائرل علاج حاصل کر رہے تھے۔
ذرائع: ڈان