پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی پالیسیوں کے خلاف 30 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال اور طبی مراکز کی بندش کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کے مطابق ملک بھر کے نجی صحت فراہم کنندگان بھی اس احتجاج میں شامل ہوں گے۔
پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ طبی برادری ایف بی آر کی جانب سے صحت کی خدمات کو ریٹیل سیل کے زمرے میں ڈالنے اور نجی اسپتالوں پر پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام زبردستی نافذ کرنے کو مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت ایک بنیادی عوامی خدمت ہے، تجارتی سرگرمی نہیں۔
تنظیم کے مطالبات
ڈاکٹر شورو کے مطابق ملک کی صحت کی 70 فیصد سے زائد ضروریات پوری کرنے والے نجی اسپتال پہلے ہی باقاعدگی سے انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود انہیں بھاری جرمانوں، اسپتالوں پر چھاپوں اور ٹیکس حکام کی مسلسل سختیوں کا سامنا ہے۔ پی ایم اے نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ پی او ایس کی شرط واپس لی جائے، جرمانے ختم کیے جائیں اور اسپتالوں پر چھاپے بند کیے جائیں۔
تنظیم کے مطابق تمام صوبوں کی قیادت سے مشاورت کے بعد ہڑتال پر مکمل اتفاق ہوا ہے اور تمام طبی اداروں کو 30 ستمبر کو مکمل بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اقدامات نہ رکے تو طبی برادری غیر معینہ مدت کے لیے خدمات معطل کرنے پر مجبور ہو گی۔
ہڑتال کے دوران ہنگامی خدمات کی صورتحال کے بارے میں تنظیم کی جانب سے تاحال کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ایف بی آر کا اس اعلان پر مؤقف بھی فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکا۔
ذرائع: ڈان