جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

نیند کی کمی کا علاج: بہتر نیند کے آسان طریقے اور کب ڈاکٹر سے ملیں

رات کو نیند نہیں آتی؟ کتنی نیند ضروری ہے، نیند نہ آنے کی عام وجوہات کیا ہیں اور سی ڈی سی کی تجاویز کی روشنی میں نیند کی کمی کا علاج کیسے کریں۔
تکیے پر سر رکھ کر پرسکون نیند سوتی ایک خاتون
علامتی تصویر: Rachel Calamusa، CC BY-SA 2.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

رات کے دو بج گئے ہیں، آنکھیں تھکی ہوئی ہیں مگر نیند نہیں آ رہی۔ صبح دفتر یا کلاس میں سر بھاری رہتا ہے اور کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ یہ کیفیت پاکستان میں بہت سے لوگوں کو معلوم ہے۔ اس مضمون میں ہم بتائیں گے کہ مختلف عمر کے افراد کو کتنی نیند درکار ہوتی ہے، نیند نہ آنے کی عام وجوہات کیا ہیں، اور نیند کی کمی کا علاج گھریلو عادات میں تبدیلی سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے۔ اگر نیند کی خرابی طویل عرصے سے ہے یا اس کے ساتھ دیگر علامات بھی ہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ نیند کی گولیاں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر استعمال نہ کریں۔

کتنی نیند ضروری ہے؟

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق مختلف عمر کے افراد کے لیے روزانہ نیند کی تجویز کردہ مقدار یہ ہے:

عمر تجویز کردہ نیند
6 سے 12 سال 9 سے 12 گھنٹے
13 سے 17 سال 8 سے 10 گھنٹے
18 سے 60 سال 7 یا اس سے زیادہ گھنٹے
61 سے 64 سال 7 سے 9 گھنٹے
65 سال اور زائد 7 سے 8 گھنٹے

یہ اوسط رہنمائی ہے۔ کچھ افراد کو قدرے کم یا زیادہ نیند کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر اگر آپ مسلسل سات گھنٹے سے کم سو رہے ہیں اور دن بھر تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو یہ اشارہ ہے کہ آپ کی نیند ناکافی ہے۔

نیند کی کمی کی علامات

  • صبح اٹھنے میں شدید مشکل اور دن میں بار بار جمائیاں
  • توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور بھول جانا
  • چڑچڑا پن اور جلد غصہ آنا
  • دن کے وقت غنودگی، خاص طور پر دوپہر میں
  • گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے آنکھیں بوجھل ہونا، جو خطرناک ہو سکتا ہے

اگر ڈرائیونگ کے دوران نیند آئے تو گاڑی محفوظ جگہ پر روک کر آرام کریں۔ نیند کی کمی سڑک حادثات کی ایک معروف وجہ ہے۔

نیند نہ آنے کی عام وجوہات

1. سونے اور جاگنے کا بے ترتیب وقت

کبھی رات دس بجے سونا اور کبھی دو بجے، ہفتے میں کچھ دن دیر تک سونا اور کچھ دن جلدی اٹھنا، جسم کی اندرونی گھڑی کو الجھا دیتا ہے۔

2. موبائل اور اسکرین کا استعمال

بستر پر لیٹ کر دیر تک سوشل میڈیا یا ویڈیوز دیکھنا ذہن کو متحرک رکھتا ہے۔ سی ڈی سی سونے سے کم از کم 30 منٹ پہلے الیکٹرانک آلات بند کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

3. شام کے بعد چائے اور کافی

پاکستان میں شام کی چائے ایک روایت ہے، مگر کیفین کئی گھنٹوں تک جسم میں اثر رکھتی ہے۔ سی ڈی سی دوپہر یا شام کے وقت کیفین سے پرہیز کا مشورہ دیتا ہے۔ کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس میں بھی کیفین ہو سکتی ہے۔

4. رات گئے بھاری کھانا

دیر سے کھائی گئی مرغن اور بھاری غذا بدہضمی اور بے آرامی کا باعث بن سکتی ہے۔

5. ذہنی دباؤ اور فکر

ملازمت، مالی مسائل یا امتحانات کی فکر بستر پر لیٹتے ہی ذہن میں گردش کرنے لگتی ہے اور نیند دور ہو جاتی ہے۔

6. کمرے کا ماحول

شور، روشنی، زیادہ گرمی یا بے آرام بستر بھی نیند کو متاثر کرتے ہیں۔

7. طبی وجوہات

بعض بیماریاں، دائمی درد، خراٹوں کے ساتھ سانس رکنا (سلیپ ایپنیا)، ذہنی صحت کے مسائل یا بعض ادویات بھی نیند میں خلل ڈال سکتی ہیں۔ ان صورتوں میں ڈاکٹر کی تشخیص ضروری ہے۔

نیند کی کمی کا علاج: بہتر نیند کی عادات

ماہرین جن عادات کو "سلیپ ہائیجین” کہتے ہیں، وہ نیند بہتر بنانے کی بنیاد ہیں۔ سی ڈی سی کی تجاویز اور عمومی طبی رہنمائی کی روشنی میں یہ اقدامات کریں:

مقررہ وقت پر سوئیں اور جاگیں

سی ڈی سی کے مطابق روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور ایک ہی وقت پر جاگنا بہتر نیند کے لیے اہم ہے، چھٹی کے دن بھی۔ ابتدا میں الارم لگا کر جاگنے کا وقت مقرر کریں؛ کچھ دنوں میں سونے کا وقت بھی خود بخود ترتیب پانے لگے گا۔

سونے سے پہلے آرام دہ معمول بنائیں

سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے روشنی مدھم کریں، فون ایک طرف رکھ دیں اور ہلکا مطالعہ، وضو، نماز، ہلکی اسٹریچنگ یا گہری سانس کی مشق جیسا کوئی پرسکون معمول اپنائیں۔ روزانہ ایک ہی معمول دہرانے سے دماغ کو اشارہ ملتا ہے کہ اب سونے کا وقت ہے۔

کمرے کو نیند کے موافق بنائیں

سی ڈی سی کے مطابق سونے کا کمرہ پرسکون اور معتدل ٹھنڈا ہونا چاہیے۔ پردے استعمال کر کے روشنی کم کریں اور اگر شور زیادہ ہو تو کانوں کے پلگ مددگار ہو سکتے ہیں۔ بستر کو صرف سونے کے لیے استعمال کریں، دفتری کام یا طویل اسکرین ٹائم کے لیے نہیں۔

کھانے پینے کے اوقات پر توجہ دیں

رات کا کھانا سونے سے کچھ گھنٹے پہلے کھا لیں اور بہت بھاری کھانے سے پرہیز کریں۔ شام کے بعد چائے، کافی اور کیفین والے مشروبات کم کریں۔

دن میں جسمانی سرگرمی

سی ڈی سی باقاعدہ ورزش اور صحت مند غذا کو بہتر نیند کے لیے مفید قرار دیتا ہے۔ روزانہ کی چہل قدمی بھی فرق ڈال سکتی ہے، البتہ سونے سے بالکل پہلے سخت ورزش بعض افراد کی نیند کو متاثر کر سکتی ہے۔

دن کی نیند محدود رکھیں

دوپہر کا مختصر قیلولہ کئی لوگوں کے لیے مفید ہوتا ہے، مگر اگر رات کو نیند نہیں آتی تو دن کی لمبی نیند کم کرنے کی کوشش کریں۔

نیند نہ آئے تو بستر پر کروٹیں نہ بدلتے رہیں

اگر کافی دیر تک نیند نہ آئے تو اٹھ کر مدھم روشنی میں کوئی پرسکون کام کریں اور نیند محسوس ہونے پر دوبارہ لیٹیں۔ گھڑی بار بار دیکھنے سے فکر بڑھتی ہے، اس لیے اسے نظروں سے دور رکھیں۔

ذہنی دباؤ کم کرنے کے آسان طریقے

  • فکروں کی فہرست: سونے سے پہلے ایک کاغذ پر اگلے دن کے کام اور پریشانیاں لکھ دیں تاکہ ذہن انہیں بار بار نہ دہرائے۔
  • سانس کی مشق: آہستہ آہستہ ناک سے گہرا سانس لیں، کچھ لمحے روکیں اور آہستگی سے خارج کریں۔ چند منٹ یہ مشق جسم کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
  • بات چیت: اگر کوئی مسئلہ مسلسل پریشان کر رہا ہے تو کسی قابلِ اعتماد شخص یا ماہر سے بات کریں۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

ان صورتوں میں گھریلو تدابیر کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کریں:

  • کئی ہفتوں سے نیند کی مسلسل خرابی جو روزمرہ زندگی متاثر کر رہی ہو۔
  • تیز خراٹے، جن کے ساتھ گھر والے سوتے میں سانس رکنے کا ذکر کریں۔
  • مسلسل اداسی، شدید بے چینی یا مایوسی کے احساسات۔
  • دن میں اچانک اور بے قابو نیند آ جانا۔
  • کسی نئی دوا کے شروع ہونے کے بعد نیند کی خرابی۔

نیند کی گولیاں اپنی مرضی سے یا کسی کے کہنے پر استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے اور ان کی عادت بھی پڑ سکتی ہے۔ یہ فیصلہ صرف ڈاکٹر کو کرنا چاہیے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا ہفتے کے آخر میں زیادہ سو کر کمی پوری کی جا سکتی ہے؟

کبھی کبھار اضافی نیند سے تھکاوٹ کم ہو سکتی ہے، مگر اس سے سونے جاگنے کا معمول مزید بگڑ سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ روزانہ مناسب اور باقاعدہ نیند لی جائے۔

کیا دودھ یا قہوہ پینے سے نیند آتی ہے؟

بعض لوگوں کو سونے سے پہلے گرم مشروب سکون دیتا ہے، مگر اسے نیند کا یقینی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ خیال رکھیں کہ مشروب میں کیفین نہ ہو۔

بچوں کی نیند کیسے بہتر کریں؟

بچوں کے لیے بھی سونے کا مقررہ وقت، سونے سے پہلے اسکرین سے دوری اور پرسکون معمول مفید ہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق اسکول جانے والے بچوں کو 9 سے 12 گھنٹے نیند درکار ہوتی ہے۔

کیا رات کی شفٹ میں کام کرنے والوں کے لیے یہ تجاویز مفید ہیں؟

جی ہاں، البتہ انہیں دن میں سونے کے لیے کمرے کو زیادہ اندھیرا اور پرسکون بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلسل مسئلہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

سونے سے پہلے فون کا ڈارک موڈ کافی ہے؟

ڈارک موڈ آنکھوں کو کچھ آرام دے سکتا ہے، مگر اصل مسئلہ ذہنی طور پر متحرک رہنا بھی ہے۔ اس لیے سونے سے کچھ دیر پہلے فون مکمل طور پر رکھ دینا بہتر ہے۔

خلاصہ

بالغ افراد کو عموماً رات میں کم از کم سات گھنٹے نیند درکار ہوتی ہے۔ نیند کی کمی کا علاج زیادہ تر معاملات میں روزمرہ عادات سے شروع ہوتا ہے: مقررہ وقت پر سونا اور جاگنا، سونے سے پہلے فون سے دوری، شام کے بعد کیفین سے پرہیز، پرسکون کمرہ اور دن میں جسمانی سرگرمی۔ اگر ان تبدیلیوں کے باوجود مسئلہ برقرار رہے یا تیز خراٹے اور شدید بے چینی جیسی علامات ہوں تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔ پڑھائی کے دوران یادداشت بہتر بنانے کے طریقے ہمارے مضمون سبق جلدی یاد کرنے کا طریقہ میں دیکھیں۔

مزید پڑھیں

ذرائع اور مزید معلومات: CDC – About Sleep، AASM/SRS Consensus Statement (2015)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔