وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ ختم کرے اور متنازع امور کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کرے۔ وہ اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کی سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کا یہ مارچ جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہو رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کوششوں کے باوجود لانگ مارچ کے “ہولناک سائے” ایک بار پھر منڈلا رہے ہیں۔ ان کے بقول قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں دو روز بات چیت ہوئی اور امید تھی کہ محاذ آرائی کی سیاست ختم ہو جائے گی، مگر پی ٹی آئی کا مقصد مذاکرات کو کامیاب نہ ہونے دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اور لانگ مارچ سے معیشت، برآمدات، درآمدات اور پیداوار متاثر ہوتی ہیں، جبکہ ڈھائی سال میں معاشی استحکام حاصل کیا گیا اور ستمبر میں آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر میں بہتری آئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معیشت اور شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون اپنا راستہ لے گا۔
اسی روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ اور احتجاج ختم کرنے سے مشروط ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بات چیت کے ناکام ہونے کا ذمہ دار قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ مسودۂ معاہدہ تیار ہو چکا تھا مگر آخری لمحات میں اپوزیشن وفد وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ ان کے مطابق سیاسی راستے کو اولین ترجیح حاصل ہے، تاہم آئینی اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
پی ٹی آئی کا مؤقف مختلف ہے۔ ڈان کے مطابق پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے عمران خان سے فوری ملاقات کے بدلے دیگر مطالبات چھوڑنے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی، مگر حکومت نے ملاقات کو مجوزہ معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کیا۔ پارٹی رہنما سلمان اکرم راجہ کے مطابق ناکامی کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر اختلاف تھا، جنہیں پی ٹی آئی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی معاہدے اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی بنیاد پر طے کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون