پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کو فراڈ کی ایک بڑھتی ہوئی صورت سے خبردار کیا ہے جس میں جرائم پیشہ افراد کوریئر کمپنیوں کے نمائندے بن کر فون کرتے ہیں اور پارسل کی ڈیلیوری مکمل کرنے کے بہانے ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) یا دیگر حساس معلومات مانگتے ہیں۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق یہ انتباہ پی ٹی اے کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر عوامی آگاہی کے پیغام کی صورت میں جاری کیا گیا۔
او ٹی پی کیوں اہم ہے؟
اتھارٹی کے مطابق او ٹی پی ذاتی اور مالی معلومات کے تحفظ کا ایک اہم حفاظتی ذریعہ ہے اور یہ کوڈ کسی دوسرے شخص کو بتانے سے غیر مجاز فرد آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتا یا لین دین مکمل کر سکتا ہے۔ پی ٹی اے کی سائبر کرائم گائیڈنس میں بھی جعلی شناخت اور پن، اکاؤنٹ تفصیلات یا او ٹی پی مانگنے کو الیکٹرانک مالی فراڈ کے طریقے قرار دیا گیا ہے۔
شہری کیا کریں؟
پی ٹی اے کی ہدایات کے مطابق کسی بھی کالر کو او ٹی پی، پاس ورڈ، پن یا بینکنگ تفصیلات نہ دیں، چاہے وہ خود کو کوریئر کمپنی کا نمائندہ ہی کیوں نہ بتائے۔ پارسل کی تفصیل کمپنی کے سرکاری ذرائع سے خود معلوم کریں، جلدبازی پیدا کرنے والے کالرز سے محتاط رہیں اور مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔ پی ٹی اے کا کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم بھی شکایات درج کرانے کے لیے دستیاب ہے۔