وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اور افغانستان کی جانب سے ملک کا امن خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب پہلے بھی دیا گیا ہے اور آئندہ بھی دیا جائے گا۔
سیمینار سے خطاب
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیرِ اطلاعات نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال اور امن کے امکانات پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسندانہ سوچ ترک کر کے ایک ذمہ دار ریاست کا طرزِ عمل اختیار کرے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور بین الاقوامی سطح پر کالعدم تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، اور افغان جانب سے امن کے حصول کی آمادگی نظر نہیں آتی۔
مذاکرات اور تجارت
پاکستان آبزرور کے مطابق وزیر نے بتایا کہ پاکستان نے کابل میں اعلیٰ سطحی وفود بھیجے اور استنبول و دوحہ میں مذاکرات میں بھی حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن قائم ہونے سے وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستے کھل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو بنیادی حقوق اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی سرحد پر کشیدگی دیکھی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد کابل سے بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز، ریڈیو پاکستان، پاکستان آبزرور