خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بعض ارکان کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مجوزہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مبینہ عدم دلچسپی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
ایکسپریس ٹریبیون نے پارٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے یہ اظہار منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں بعض ارکان زوم کے ذریعے شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا کہ پارٹی کی صفوں میں بھی ’میر جعفر اور میر صادق‘ موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد فتح کرنے نہیں جا رہی، بلکہ وفاقی حکومت راستہ روک رہی ہے۔
آج نیوز کے مطابق اجلاس میں 4 اکتوبر کو صوابی پہنچ کر وہاں کئی روز قیام کی تجویز پر غور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی کے اس خط پر بھی ناراضی ظاہر کی جس میں مارچ مؤخر کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے بیرونِ ملک موجود ارکانِ اسمبلی اور رہنماؤں کو وطن واپس آنے کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی حکومت کا مؤقف
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی حکومت پی ٹی آئی سے بارہا مارچ نہ کرنے کا کہہ چکی ہے اور واضح کیا ہے کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو راستہ مذاکرات سے کھل سکتا ہے وہ مارچ سے نہیں کھلے گا، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو احتجاج ترک کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پی ٹی آئی نے پہلے 27 ستمبر کو مارچ کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلے کے تحت 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا۔ پارٹی کے مطابق مارچ کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ ہے۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، آج نیوز، ڈیلی ٹائمز