نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایندھن کی قیمتوں میں تیزی کے باعث امریکا کی تقریباً ایک تہائی ریاستوں نے ایندھن پر ٹیکس کم کیے یا ڈیزل سے متعلق پابندیاں نرم کی ہیں۔ ڈان کی واشنگٹن رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات پٹرول پمپ پر سب سے زیادہ نظر آنے والے اثرات میں شامل ہیں اور رائے دہندگان پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات پر فکرمند ہیں۔
امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن (اے اے اے) کی تازہ رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک بھر میں پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً سات سینٹ کم ہو کر 4.41 ڈالر فی گیلن رہی۔ ستمبر میں ماہانہ اوسط 4.33 ڈالر فی گیلن کے ریکارڈ پر پہنچی، جو 2023 کے سابقہ ستمبر ریکارڈ سے 50 سینٹ زیادہ ہے۔ اے اے اے نے قیمتوں پر دباؤ کی وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازع سے جڑا خام تیل کی منڈی کا اتار چڑھاؤ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی غیر یقینی صورتحال بتائی ہے۔
اوہائیو کے قانون سازوں نے ریاستی پٹرول اور ڈیزل ٹیکس کی 90 روزہ معطلی کثرتِ رائے سے منظور کی، جس پر گورنر مائیک ڈی وائن نے دستخط کر دیے۔ جارجیا نے 30 روزہ معطلی دوبارہ شروع کی، انڈیانا نے موجودہ ٹیکس رعایت میں توسیع اور ٹیکس سے مستثنیٰ ڈیزل کے قواعد میں نرمی کی، جبکہ یوٹاہ نے سال کے اختتام تک ریاستی پٹرول ٹیکس میں چھ سینٹ فی گیلن کمی کی ہے۔ الینوائے اور کینٹکی نے طے شدہ اضافے مؤخر یا منجمد کیے، کیلیفورنیا نے سستے سرمائی بلینڈ کی جانب جلد منتقلی کی اجازت دی، اور الاباما، ارکنساس، لوزیانا، میسوری، نبراسکا، شمالی کیرولائنا، شمالی ڈکوٹا، اوکلاہوما اور ٹیکساس نے رنگین ڈیزل سے متعلق پابندیاں عارضی طور پر نرم کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نیویارک نے ایندھن ٹیکس معطل نہیں کیے اور گھروں کی حرارت کے اخراجات پر ریلیف کی کوششوں پر توجہ دی ہے؛ ورجینیا، میری لینڈ اور واشنگٹن ڈی سی میں ایسی تجاویز زیر بحث ہیں مگر فی الحال ریاستی سطح پر ریلیف نہیں دیا گیا۔ وفاقی سطح پر ملک گیر گیس ٹیکس ہالیڈے کی تجاویز سامنے آئیں مگر کوئی وسیع وفاقی معطلی نافذ نہیں ہوئی۔
گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان نے فاکس بزنس سے گفتگو میں کہا کہ انتخابات سے قبل مہنگا پٹرول ریپبلکنز کے لیے 2022 میں ڈیموکریٹس جیسا نتیجہ پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکس معطلی سے ریاستوں کی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کے لیے آمدنی کم ہوتی ہے، اور یہ بھی یقینی نہیں کہ ٹیکس کمی کا مکمل فائدہ ہر پمپ پر صارفین تک فوراً پہنچے۔
ذرائع: ڈان (انور اقبال)