امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مرحلہ وار راستے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ڈان میں شائع ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق نیویارک میں مذاکرات سے واقف ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ فریم ورک میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنا، امریکہ کی جانب سے معاشی ناکہ بندی ختم کرنا اور منجمد ایرانی اثاثوں تک ممکنہ رسائی شامل ہیں۔
فریقین کے مؤقف
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا: "آگے بڑھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بحران کو مرحلہ وار حل کیا جائے۔ پہلا مرحلہ ناکہ بندی کا خاتمہ اور ہرمز کو کھولنا ہوگا۔” اسی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے "ضرورت سے زیادہ مطالبات” کی وجہ سے سفارت کاری کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ "ایران معاہدے کے لیے بے چین ہے” اور صدر ٹرمپ وہی فیصلہ کریں گے جو امریکہ کے لیے بہتر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی رکاوٹ یہ ہے کہ کوئی بھی فریق پہلا قدم اٹھانے کو تیار نہیں۔ سابق امریکی مذاکرات کار ڈینس راس نے معاہدے کے امکانات کو "تقریباً 30 فیصد” قرار دیا۔