وزیر اعظم شہباز شریف نے نیویارک میں یو ایس پاکستان بزنس کونسل اور بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ "ہماری معیشت اب مستحکم ہے اور ہم ترقی کی جانب بڑھ چکے ہیں۔”
سرمایہ کاری کے ترجیحی شعبے
ڈان کے مطابق وزیر اعظم نے زراعت، معدنیات، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور توانائی کے تحفظ کو ترجیحی شعبے قرار دیا اور کہا کہ زراعت میں پاکستان کے پاس "سب سے زیادہ صلاحیت” ہے۔ انہوں نے معیشت کو ڈیجیٹل بنانے، ایف بی آر کو جدید بنانے اور ای گورننس جیسی اصلاحات کا ذکر کیا، جبکہ پی آئی اے، بینکنگ اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو بھی سرمایہ کاری کے مواقع کے طور پر پیش کیا۔
وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور پرنس رحیم آغا خان پنجم سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں علاقائی امن، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور ترقیاتی تعاون پر بات ہوئی۔
نوٹ: وزیر اعظم کے بیانات حکومت کا مؤقف ہیں۔ معیشت کی صورتحال پر آئی ایم ایف پروگرام کی تفصیل کے لیے ہماری متعلقہ خبر دیکھیں۔