جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

امریکی جیوری نے کیمبرج اینالیٹکا سے جڑے مقدمے میں میٹا کو صارفین کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک جیوری نے فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کو صارفین کی رازداری کے تحفظ کے بارے میں گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ مقدمہ کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل سے متعلق تھا۔
کمپیوٹر اسکرین پر پروگرامنگ کوڈ، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Markus Spiske markusspiske، CC0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

امریکی ریاست نیو میکسیکو میں ایک جیوری نے جمعے کو فیصلہ دیا کہ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے صارفین کو ان کی ذاتی معلومات کے تحفظ کے بارے میں گمراہ کیا۔ اے ایف پی کے حوالے سے ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ بات امریکی ذرائع ابلاغ نے بتائی ہے اور مقدمہ کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل سے جڑا ہوا تھا۔

رپورٹ میں میٹا پر عائد کیے جانے والے جرمانے یا ہرجانے کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اور کمپنی کا ردِعمل بھی شامل نہیں۔

کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل کیا تھا؟

کیمبرج اینالیٹکا ایک سیاسی مشاورتی فرم تھی جس پر لاکھوں فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا غیر مناسب طریقے سے حاصل کرنے اور اسے سیاسی اشتہارات کے لیے استعمال کرنے کا الزام ثابت ہوا، خاص طور پر 2016 کے امریکی انتخابات اور بریگزٹ ریفرنڈم کے دوران۔

اس وقت کی انکشافات کے مطابق فرم نے ایک شخصیت کوئز ایپ کے ذریعے جمع کیا گیا ڈیٹا خریدا تھا۔ اس ایپ کو تقریباً دو لاکھ 70 ہزار افراد نے استعمال کیا لیکن ان کے دوستوں کی معلومات سمیت یہ دنیا بھر میں تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ فیس بک صارفین تک پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک کو دسمبر 2015 میں معلوم ہو گیا تھا کہ کیمبرج اینالیٹکا نے یہ ڈیٹا حاصل کیا ہے، تاہم اس کا انکشاف اپریل 2018 میں ایک وسل بلوئر کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس سے ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا ہوا۔ یہ فیصلہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق بحث میں اہمیت رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔