اکتوبر کے آتے ہی لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں صبح کے وقت دھند نما دھواں چھانے لگتا ہے، آنکھوں میں جلن اور گلے میں خراش عام ہو جاتی ہے۔ یہ اسموگ ہے، جو ہر سال سردیوں کے آغاز میں بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ اسموگ کے موسم سے پہلے ہی تیاری کر لی جائے تو اس کے اثرات کافی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم بتائیں گے کہ اسموگ سے کیسے بچیں، گھر کے اندر اور باہر کون سی احتیاطیں مؤثر ہیں، کن افراد کو خاص خیال رکھنا چاہیے، اور ماسک کے انتخاب میں کیا دیکھیں۔
نوٹ: یہ مضمون عمومی آگاہی کے لیے ہے۔ سانس کی تکلیف، سینے میں درد یا دمہ کے دورے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اسموگ کیا ہے اور کیوں بنتی ہے؟
اسموگ دراصل دھوئیں (Smoke) اور دھند (Fog) کا مرکب لفظ ہے۔ جب گاڑیوں، کارخانوں، اینٹوں کے بھٹوں، کچرا جلانے اور فصلوں کی باقیات جلانے سے نکلنے والی آلودگی سرد اور ٹھہری ہوئی ہوا میں پھنس جاتی ہے تو فضا میں آلودہ ذرات کی ایک تہہ بن جاتی ہے۔ سردیوں میں ہوا کم چلتی ہے اور زمین کے قریب ٹھنڈی ہوا کی تہہ آلودگی کو اوپر جانے نہیں دیتی، اس لیے یہ مسئلہ اکتوبر سے جنوری کے دوران زیادہ شدت اختیار کرتا ہے۔
اسموگ میں سب سے زیادہ تشویش ناک عنصر باریک ذرات ہیں جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں۔
صحت پر اثرات: یہ صرف آنکھوں کی جلن نہیں
عالمی ادارہ صحت کے مطابق باریک ذرات دل اور سانس کی بیماریوں اور بعض کینسرز کا سبب بنتے ہیں۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ 2019 میں بیرونی فضائی آلودگی دنیا بھر میں 42 لاکھ قبل از وقت اموات کا سبب بنی، جن میں سے 89 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوئیں۔ فوری طور پر محسوس ہونے والے اثرات میں یہ شامل ہیں:
- آنکھوں میں جلن، سرخی اور پانی آنا
- گلے میں خراش اور کھانسی
- سانس پھولنا، خاص طور پر دمہ کے مریضوں میں
- سر درد اور تھکاوٹ
- پہلے سے موجود دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں شدت
کن افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے؟
- بچے، کیونکہ وہ اپنے وزن کے لحاظ سے زیادہ سانس لیتے ہیں اور باہر زیادہ کھیلتے ہیں
- بزرگ افراد
- حاملہ خواتین
- دمہ، سی او پی ڈی یا سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد
- دل کے مریض
- وہ لوگ جو باہر کام کرتے ہیں، جیسے ٹریفک اہلکار، مزدور، رائیڈرز اور ریڑھی بان
ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کو سمجھیں
اے کیو آئی ایک پیمانہ ہے جو بتاتا ہے کہ کسی وقت فضا کتنی آلودہ ہے۔ عام طور پر اسے رنگوں کے ذریعے دکھایا جاتا ہے، جہاں سبز رنگ صاف ہوا اور سرخ، جامنی یا گہرا بھورا رنگ انتہائی آلودہ ہوا کی نشاندہی کرتا ہے۔ مختلف ادارے اور ایپس اے کیو آئی کے حساب کے مختلف پیمانے استعمال کرتی ہیں، اس لیے اعداد میں فرق ہو سکتا ہے۔ اصل بات رجحان دیکھنا ہے: جب انڈیکس خطرناک سطح دکھائے تو باہر کی سرگرمیاں کم کریں۔
عالمی ادارہ صحت کی 2021 کی فضائی معیار کی گائیڈ لائنز میں پی ایم 2.5 کی سالانہ اوسط کی حد 5 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تجویز کی گئی ہے۔ سردیوں میں پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ سطح اکثر اس حد سے کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔
گھر سے باہر: اسموگ سے کیسے بچیں؟
1. نکلنے سے پہلے اے کیو آئی دیکھیں
صبح سویرے اور رات کے وقت عموماً آلودگی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو غیر ضروری سفر ان اوقات میں نہ کریں۔
2. درست ماسک استعمال کریں
عام کپڑے کا ماسک یا سرجیکل ماسک باریک ذرات کو مؤثر طریقے سے نہیں روکتا۔ اس مقصد کے لیے این 95 یا اس کے مساوی معیار کا ماسک زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ چہرے پر اچھی طرح فٹ ہو اور ناک کے اطراف سے ہوا نہ گزرے۔ داڑھی والے افراد میں ماسک کی فٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ دل یا سانس کے مریض ماسک استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
3. سخت جسمانی سرگرمی کم کریں
آلودگی زیادہ ہو تو کھلی جگہ پر دوڑنے، کرکٹ یا سخت ورزش کے بجائے گھر کے اندر ہلکی ورزش کریں، کیونکہ تیز سانس لینے سے زیادہ آلودہ ہوا جسم میں جاتی ہے۔
4. موٹر سائیکل سوار خاص احتیاط کریں
موٹر سائیکل سوار براہِ راست دھوئیں اور گردوغبار کی زد میں ہوتے ہیں۔ ماسک کے ساتھ ہیلمٹ کا شیشہ بند رکھیں اور دھند یا اسموگ میں رفتار کم رکھیں کیونکہ حدِ نگاہ کم ہو جاتی ہے۔
5. گاڑی چلاتے وقت
کم حدِ نگاہ میں فوگ لائٹس استعمال کریں، دوسری گاڑیوں سے فاصلہ رکھیں اور گاڑی کا ایئر کنڈیشنر ری سرکولیشن موڈ پر رکھیں تاکہ باہر کی آلودہ ہوا کم اندر آئے۔
گھر کے اندر: ہوا کو کیسے بہتر رکھیں؟
- کھڑکیاں اوقات دیکھ کر کھولیں: جب باہر آلودگی بہت زیادہ ہو تو کھڑکیاں دروازے بند رکھیں، اور نسبتاً صاف اوقات میں مختصر وقت کے لیے ہوا کی آمد و رفت ہونے دیں۔
- اندرونی آلودگی کم کریں: گھر کے اندر سگریٹ نوشی نہ کریں، اگربتی اور لکڑی یا کوئلے کے دھوئیں سے گریز کریں۔
- کچرا نہ جلائیں: گھر یا گلی میں پتے اور کچرا جلانا خود اسموگ میں اضافہ کرتا ہے۔
- گیلا پونچھا: جھاڑو سے گرد اڑتی ہے، اس لیے فرش پر گیلا کپڑا استعمال کریں۔
- ایئر پیوریفائر: اگر استطاعت ہو تو ہیپا فلٹر والا ایئر پیوریفائر خاص طور پر سونے کے کمرے میں مفید ہو سکتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ کمرے کے سائز کے مطابق ہو اور فلٹر وقت پر تبدیل کیا جائے۔
صحت کی دیکھ بھال کے عملی مشورے
- پانی کی مناسب مقدار پئیں تاکہ گلا خشک نہ ہو۔
- باہر سے آ کر چہرہ اور آنکھیں صاف پانی سے دھوئیں۔ آنکھوں کو رگڑنے سے گریز کریں۔
- دمہ اور سانس کے مریض اپنی ادویات اور انہیلر ہمیشہ ساتھ رکھیں اور ڈاکٹر کے بتائے ہوئے ایکشن پلان پر عمل کریں۔
- متوازن غذا اور موسمی پھل مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔ دل کی صحت کے لیے غذا کے بارے میں ہمارا مضمون دل کی صحت کے لیے کیا کھائیں دیکھیں۔
حکومت کیا کر رہی ہے؟
روزنامہ دی نیشن کی 2 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) نے اسموگ کے موسم سے پہلے اقدامات تیز کرنے کا اعلان کیا، جن میں زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر اینٹوں کے بھٹوں کو کام کی اجازت نہ دینا، دھواں چھوڑنے والی بھاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی، تعمیراتی مقامات پر گرد کنٹرول اور کچرا جلانے کی روک تھام شامل ہیں۔ شہریوں کا تعاون بھی اتنا ہی اہم ہے: گاڑیوں کی بروقت ٹیوننگ، کچرا نہ جلانا اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں یا کارخانوں کی نشاندہی متعلقہ اداروں کو کرنا۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
- سانس لینے میں شدید دشواری یا سانس کی آواز (سیٹی جیسی)
- سینے میں درد یا دباؤ
- دمہ کی علامات جو معمول کی دوا سے قابو میں نہ آئیں
- بچوں میں تیز سانس یا ہونٹوں کا نیلا پڑنا
ایسی صورت میں فوراً قریبی اسپتال جائیں یا ہنگامی سروس 1122 سے رابطہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا سرجیکل ماسک اسموگ سے بچاتا ہے؟
سرجیکل ماسک بڑے ذرات کو کچھ حد تک روک سکتا ہے، مگر پی ایم 2.5 جیسے باریک ذرات کے خلاف اس کی افادیت محدود ہے۔ اچھی فٹنگ والا این 95 یا مساوی معیار کا ماسک زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
کیا بچوں کو اسکول بھیجنا چاہیے؟
اس بارے میں صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کی ہدایات پر عمل کریں۔ شدید آلودگی کے دنوں میں بچوں کو کھلی جگہ پر کھیلنے اور ورزش سے روکنا مناسب ہے۔
کیا گھر کے پودے ہوا صاف کرتے ہیں؟
پودے گھر کو خوشگوار بناتے ہیں، مگر اسموگ کے دوران ہوا کو نمایاں طور پر صاف کرنے کے لیے ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ کھڑکیاں بند رکھنا اور اندرونی آلودگی کم کرنا زیادہ مؤثر اقدامات ہیں۔
اسموگ کا موسم کب تک رہتا ہے؟
عام طور پر اکتوبر سے جنوری کے دوران شدت زیادہ ہوتی ہے، مگر یہ موسمی حالات، ہوا کی رفتار اور بارش پر منحصر ہے۔ بارش ہونے پر عموماً فضا کچھ صاف ہو جاتی ہے۔
کیا بھاپ لینا یا نمک کے پانی سے غرارے مفید ہیں؟
یہ گلے کی خراش میں وقتی آرام دے سکتے ہیں، مگر آلودگی سے بچاؤ کا متبادل نہیں۔ علامات برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
خلاصہ
اسموگ سے بچاؤ کا بنیادی اصول آلودہ ہوا سے کم سے کم رابطہ ہے: اے کیو آئی دیکھ کر باہر نکلیں، باریک ذرات روکنے والا ماسک صحیح طریقے سے پہنیں، آلودگی کے اوقات میں کھڑکیاں بند رکھیں اور سخت ورزش گھر کے اندر کریں۔ بچوں، بزرگوں اور سانس اور دل کے مریضوں کا خاص خیال رکھیں، اور خود کچرا جلانے جیسی عادتوں سے گریز کر کے اس مسئلے کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
مزید پڑھیں
ذرائع اور مزید معلومات: WHO – Ambient (outdoor) air pollution fact sheet، The Nation – EPA intensifies preparations for pre-smog season (2 Sep 2026)، UNEP – Air pollution