خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں پیر کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس کے تین اہلکار شہید ہو گئے۔ ڈان سے گفتگو میں ڈسٹرکٹ پولیس افسر عبدالصمد خان نے بتایا کہ وزیر آباد بازار میں ٹریفک پولیس کی موبائل وین پر سوار تینوں اہلکار موقع پر ہی جان بحق ہو گئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور واردات کے بعد پولیس کی گاڑی بھی ساتھ لے گئے، جو بعد میں گڑہ بڈھا کے علاقے سے برآمد کر لی گئی۔ دی نیوز کے مطابق فائرنگ میں اے ایس آئی عصمت اللہ اور دو راہگیر زخمی ہوئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق شہید اہلکاروں کی شناخت پیر خالد، گل امین اور سلیم اللہ کے نام سے ہوئی۔
پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سڑکیں اور پیدل راستے بند کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت میں کارروائیاں
ادھر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے پیر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق موقع سے اسلحہ، گولہ بارود اور افغان کرنسی برآمد ہوئی۔ وزیرِ داخلہ نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایک الگ کارروائی میں لکی مروت پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں مطلوب ایک مقامی کمانڈر کو بھی ہلاک کیا۔
یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب ہفتے کے روز ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں کم از کم 12 افراد جان بحق ہوئے تھے اور صوبے کے جنوبی اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع: ڈان، دی نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، دی نیشن