ایران اور امریکا کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی نئی کوشش کے تحت دونوں ممالک کے حکام نے پیر کو ثالثوں سے الگ الگ بات چیت کی۔ روئٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک اہلکار نے بتایا کہ آئندہ بات چیت ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ ورژن پر مرکوز رہنے کا امکان ہے۔
ایران کا مؤقف
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، جو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بعد نیویارک میں موجود ہیں، نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق کہا کہ تہران کو جنگ بندی کی تجاویز اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے متعلق اپنی شرائط پر امریکی جواب کا انتظار ہے۔ ایرانی منصوبے میں ایران اور لبنان میں تمام کارروائیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، ایرانی تیل پر پابندیوں کا خاتمہ اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اٹھانا شامل ہے۔
امریکا کا مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکی حکام نے ثالثوں سے بات کی ہے، تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ اے این آئی نے الجزیرہ کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ امریکا جلد جنگ جیت لے گا۔ صدر ٹرمپ ہفتے کے روز ایرانی تجویز مسترد کر چکے ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو کہا تھا کہ تہران جوہری مذاکرات سے پہلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں تک رسائی چاہتا ہے۔ عراقچی نے اس مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔
تیل کی منڈی پر اثر
امریکی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اے پی کے مطابق دسمبر ڈلیوری کے لیے برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا۔ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔
ذرائع: روئٹرز (بزنس ورلڈ کے ذریعے)، الجزیرہ، اے این آئی، اے پی (ٹی ٹی نیوز کے ذریعے)