جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین

قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 کا اجراء، مصطفیٰ کمال نے ذہنی صحت کو ایمرجنسی قرار دے دیا

اسلام آباد میں دو روزہ عالمی ذہنی صحت سمٹ کے موقع پر حکومت نے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 جاری کر دی ہے۔
اسٹیتھوسکوپ، علامتی تصویر
تصویر: formulatehealth، بذریعہ Wikimedia Commons (CC BY 2.0)

حکومتِ پاکستان نے عالمی ادارہ صحت، یونیسیف اور گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈویلپمنٹ (شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی) کے اشتراک سے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 کا اجراء کر دیا ہے۔ پالیسی اسلام آباد میں یکم اور دو اکتوبر کو ہونے والی پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کے پہلے روز پیش کی گئی، جس کا آج دوسرا اور آخری دن ہے۔

پالیسی کے اہداف

اے آر وائی نیوز اور دی نیشن کے مطابق پالیسی کا مقصد ذہنی صحت کی خدمات کو اسکولوں، بنیادی مراکزِ صحت اور کمیونٹی کی سطح تک پھیلانا ہے۔ پالیسی میں سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات میں ذہنی صحت کی مدد، معالجین کی تربیت اور ڈیجیٹل خدمات کی توسیع بھی شامل ہے۔ صوبائی محکمہ صحت و تعلیم کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں اور اسلام آباد اعلامیہ برائے ذہنی صحت کے ذریعے عملدرآمد کا اعلان کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار

عالمی ادارہ صحت کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی مدد درکار ہے جبکہ صرف پانچ فیصد آبادی کو ان خدمات تک رسائی حاصل ہے۔ عرب نیوز کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ملک میں اندازاً دو کروڑ چالیس لاکھ افراد کو نفسیاتی معالجے کی ضرورت ہے اور پانچ لاکھ افراد کے لیے ایک ماہرِ نفسیات بھی دستیاب نہیں۔ انہوں نے ذہنی صحت کو ایمرجنسی اور معیشت سے جڑا مسئلہ قرار دیا۔

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ذہنی دباؤ سے گزر رہا ہے تو کسی قریبی مستند معالج سے رابطہ کریں۔

ذرائع: اے آر وائی نیوز، عرب نیوز پاکستان، اے پی پی، دی نیشن

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔