پاکستان تحریک انصاف نے اعلان کیا ہے کہ اس کا لانگ مارچ آج (اتوار، 4 اکتوبر) دوپہر ایک بجے لکی مروت کے گندی چوک سے شروع ہوگا۔ ڈان کے مطابق یہ مارچ پارٹی کے جیل میں قید بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہفتے کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہونے والی بات چیت اتوار کی صبح تقریباً تین بجے تک جاری رہی۔ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے اور اختلاف عمران خان سے ان کے ذاتی معالجین کی ملاقات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر ہے۔ پیپلز پارٹی کی شیری رحمان کے مطابق طے شدہ مسودہ چار مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ لانگ مارچ برقرار ہے اور ان کے خیال میں ایمرجنسی یا گورنر راج مسئلے کا حل نہیں۔
پاکستان ٹوڈے نے ذرائع کے حوالے سے ہفتے کی رات رپورٹ کیا تھا کہ فریقین کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے اور مشترکہ مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، تاہم محمود خان اچکزئی کا مؤقف تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے پہلے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ بعد ازاں ڈان نے مذاکرات کے ڈیڈ لاک پر ختم ہونے کی اطلاع دی۔ اگلا دور کب ہوگا، اس پر فریقین میں اتفاق سامنے نہیں آیا۔
مارچ کا شیڈول
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اعلان کے مطابق قافلہ آج رات کرک کے قریب قیام کرے گا۔ پانچ اکتوبر کو دوپہر ساڑھے بارہ بجے روانہ ہو کر کوہاٹ کے قریب رکے گا، چھ اکتوبر کو پشاور کی جانب بڑھتے ہوئے متنی کے نزدیک رات گزارے گا، سات اکتوبر کو پشاور کے بدھ بیر سے روانہ ہو کر چارسدہ انٹرچینج کے قریب ٹھہرے گا، جبکہ آٹھ اکتوبر کو خیر آباد میں جمع ہو کر اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا۔ مارچ سے قبل خیبر پختونخوا کی کئی سڑکوں پر دفعہ 144 کے تحت نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
وفاقی وزرا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کا اظہار کر چکے ہیں، جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی ایسے کسی اقدام پر سخت ردعمل کا عندیہ دے چکی ہے۔ ڈان کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے جیل سے ہسپتال منتقل کیا جائے، جبکہ حکومت کا مطالبہ ہے کہ مارچ ختم کیا جائے۔
ذرائع: ڈان، ڈان (مذاکرات)، پاکستان ٹوڈے، اے آر وائی نیوز