جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

حیدرآباد-سکھر موٹروے ایم-6 پر کام نومبر میں شروع ہوگا: وفاقی وزیر مواصلات

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے مطابق 306 کلومیٹر طویل ایم-6 منصوبے پر کام نومبر 2026 میں شروع ہوگا؛ مجموعی تخمینہ لاگت 359 ارب روپے بتائی گئی ہے۔
کراچی بندرگاہ پر کنٹینرز
علامتی تصویر: Salman jaliawala، CC BY-SA 4.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ حیدرآباد-سکھر موٹروے (ایم-6) پر کام نومبر 2026 میں شروع ہوگا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق یہ بیان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اس تنقید کے جواب میں آیا جس میں انہوں نے منصوبے میں تاخیر پر وفاقی حکومت کو ہدفِ تنقید بنایا تھا۔ علیم خان نے کہا کہ 30 سال سے التوا کا شکار منصوبہ شروع ہونے جا رہا ہے اور سنگِ بنیاد کی تقریب میں صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ و صوبائی کابینہ کو خصوصی طور پر مدعو کیا جائے گا۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ 306 کلومیٹر طویل منصوبہ پانچ حصوں میں تقسیم ہے اور اس کی تخمینہ لاگت 359 ارب روپے ہے۔ پہلا حصہ حیدرآباد سے ٹنڈو آدم تک 57 کلومیٹر (81 ارب روپے)، دوسرا ٹنڈو آدم سے نواب شاہ تک 63 کلومیٹر (70 ارب روپے) ہے، اور یہ دونوں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنائے جائیں گے۔ تیسرا حصہ نواب شاہ سے نوشہرو فیروز تک 65 کلومیٹر (69 ارب روپے)، چوتھا نوشہرو فیروز سے رانی پور تک 61 کلومیٹر (68 ارب روپے) اور پانچواں رانی پور سے سکھر تک 60 کلومیٹر (71 ارب روپے) پر مشتمل ہے۔

این ایچ اے کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک نے چوتھے اور پانچویں حصے کے لیے 475 ملین ڈالر کے قرض کا معاہدہ کیا ہے، جبکہ اوپیک فنڈ بورڈ نے تیسرے حصے کے لیے 230 ملین ڈالر منظور کیے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک پہلے اور دوسرے حصے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری خدمات فراہم کرے گا۔ ایکنک 364 ارب روپے کا نظرثانی شدہ پی سی ون منظور کر چکی ہے اور مرکزی کوریڈور کی زمین کا حصول مکمل ہو چکا ہے۔ پہلے اور دوسرے حصے کے ٹینڈر چھ نومبر 2026 کو جاری کرنے کا منصوبہ ہے، بولیاں 30 دسمبر تک موصول ہوں گی اور رعایتی معاہدے کا ایوارڈ چار فروری 2027 تک متوقع ہے۔

ذرائع: اے آر وائی نیوز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔