نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اتوار کو بتایا کہ ’’ریاست مخالف پروپیگنڈا اور جعلی خبروں‘‘ کی روک تھام کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ سائبر اسپیس کی نگرانی کے لیے تمام علاقوں میں سائبر پٹرولنگ یونٹس فعال کر دیے گئے ہیں۔ یہ ایجنسی کے ترجمان کا بیان ہے، جسے ڈان نے رپورٹ کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ان اقدامات کا جائزہ ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے پنجاب کے تمام سرکلز کے پانچ روزہ دورے کے دوران لیا۔ اس دوران انہوں نے رپورٹنگ سینٹرز، تھانوں اور دفاتر کا معائنہ کیا اور 500 سے زائد شکایت کنندگان سے براہ راست ملاقاتیں کیں۔
ڈی جی نے ہدایت کی کہ شکایات اور تصدیق کے نظام کو عوام دوست بنایا جائے اور سائبر کرائم کے متاثرین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ ترجمان کے مطابق ایجنسی نے جعلی خبروں اور ریاست مخالف پروپیگنڈا کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی اپنائی ہے اور میرٹ و شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے شکایات کے نمٹاؤ، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایات بھی دیں۔
سیاق و سباق کے طور پر، ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بتایا کہ بچوں کو آن لائن استحصال اور نقصان دہ مواد سے بچانا ریاست کی ذمہ داری ہے؛ کمیشن نے این سی سی آئی اے کی استعداد بڑھانے اور پیکا کا بچوں کے حقوق کے تناظر میں جائزہ لینے کی سفارش کی۔
نوٹ: ’’ریاست مخالف پروپیگنڈا‘‘ کی اصطلاح ایجنسی کے ترجمان کی ہے؛ ڈان کی رپورٹ میں اس اصطلاح کی قانونی تعریف یا ان یونٹس کے دائرۂ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔
ذرائع: ڈان، ڈان (4 اکتوبر)