جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

برازیل کے صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ: لولا اور فلاویو بولسونارو کے درمیان 25 اکتوبر کو دوبارہ مقابلہ

کسی امیدوار کو پہلے مرحلے میں 50 فیصد ووٹ نہ مل سکے؛ تقریباً 99 فیصد ووٹوں کی گنتی میں فلاویو بولسونارو کو معمولی برتری حاصل رہی۔

برازیل کی انتخابی عدالت نے اتوار کو تصدیق کی ہے کہ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کوئی امیدوار مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا، اس لیے موجودہ صدر لوئیس اناسیو لولا دا سلوا اور دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو 25 اکتوبر کو دوسرے مرحلے میں مدمقابل ہوں گے۔ الجزیرہ کے مطابق، جس نے اے ایف پی، رائٹرز اور اے پی کی رپورٹس کا حوالہ دیا، تقریباً 99 فیصد ووٹوں کی گنتی تک فلاویو بولسونارو کو قریباً 47 فیصد اور لولا کو 44.9 فیصد درست ووٹ ملے تھے۔

رپورٹ کے مطابق رائے شماری کے اکثر جائزوں میں لولا کے پہلے مرحلے میں آگے رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، اس لیے نتیجہ توقعات سے مختلف رہا۔ فلاویو بولسونارو نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ برازیلی عوام تبدیلی چاہتے ہیں، جبکہ 80 سالہ لولا نے نتیجے کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دوسرے مرحلے میں مضبوط واپسی کریں گے۔

تجزیہ کاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ بولسونارو کو ایسے ووٹروں کی حمایت مل سکتی ہے جو لولا کو ہرانا ترجیح سمجھتے تھے، مگر اس سے دوسرے مرحلے میں ان کے مزید ووٹ بڑھنے کی گنجائش کم ہو سکتی ہے۔ دیگر امیدواروں رونالڈو کائیادو اور رینان سانتوس کو مجموعی طور پر تقریباً 53 لاکھ ووٹ ملے اور دونوں نے کہا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے میں کسی کی حمایت نہیں کریں گے۔ کانگریس میں بھی دائیں بازو کی جماعتوں، خصوصاً بولسونارو کی لبرل پارٹی، نے مضبوط کارکردگی دکھائی ہے، جو آئندہ حکومت کے لیے قانون سازی کی صورتحال پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ذرائع: الجزیرہ (اے ایف پی، رائٹرز، اے پی)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔