بدھ، 28 اکتوبر 2026

کینیڈا کے فوجی اڈے وین رائٹ میں تربیتی مشق کے دوران آگ اور دھماکے سے 4 فوجی ہلاک، درجنوں زخمی

البرٹا میں لائیو فائر تربیت کے دوران لگنے والی آگ تیز ہواؤں کے باعث اڈے سے باہر پھیل گئی؛ وزیراعظم کارنی نے واقعے کو سنگین قرار دیا۔
ناسا فرمز سیٹلائٹ ڈیٹا میں کینیڈین فوجی اڈے وین رائٹ پر لگی آگ کی نشاندہی
تصویر: NASA FIRMS / Wikimedia Commons (Public domain)

اوٹاوا: کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع ملک کے مصروف ترین فوجی تربیتی مراکز میں شامل کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ میں ہفتے کی سہ پہر لگنے والی آگ اور دھماکے کے نتیجے میں چار فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ سی بی سی نیوز کے مطابق کم از کم 19 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے اور کینیڈین مسلح افواج نے اتوار کو ہلاک ہونے والے چاروں اہلکاروں کی شناخت جاری کر دی۔

کینیڈین مسلح افواج کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے کے قریب اڈے کی ایک تربیتی رینج پر لگی اور پھر تربیتی علاقے کی حدود سے باہر پھیل گئی۔ سی این این کے مطابق اس وقت فوجی اہلکار براہِ راست گولہ بارود کے ساتھ جنگی تربیت میں مصروف تھے۔ کینیڈین فوج کی پہلی ڈویژن کے کمانڈر ویڈ رٹلینڈ نے بتایا کہ غیر معمولی تیز ہواؤں نے آگ کا رخ اچانک بدل دیا اور آگ چند لمحوں میں ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کر گئی۔

واقعے کی ابتدائی وجہ پر مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ گلوبل نیوز نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مشق میں استعمال ہونے والے ایک گولے سے گھاس میں آگ لگی جس کے بعد دھماکا ہوا، جبکہ سی بی سی کے مطابق ایک فوجی عہدیدار نے واضح کیا کہ آگ گیس دھماکے سے نہیں بلکہ تربیتی علاقے میں گھاس میں لگنے سے شروع ہوئی۔ مسلح افواج کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

ابتدائی طور پر بعض ذرائع نے سات ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی، تاہم وزارتِ دفاع کے حکام نے چار اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ سی این این کے مطابق مرنے والوں میں تین سپاہی اور ایک سارجنٹ شامل ہیں۔ ایڈمنٹن کے ایک ڈاکٹر نے سرکاری نشریاتی ادارے سی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ وین رائٹ کی طبی سہولیات زخمیوں کی تعداد کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو گئی تھیں۔

وزیر دفاع ڈیوڈ مکگنٹی نے ہفتے کی رات بتایا کہ واقعے میں ہلاکتیں اور زخمی دونوں ہیں، تاہم انہوں نے صورتحال کو حساس قرار دیتے ہوئے ابتدا میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ وزیراعظم مارک کارنی نے واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جبکہ البرٹا کی وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے اسے بڑا اور افسوس ناک واقعہ کہا۔

چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف جنرل جینی کیریگنان نے کہا کہ فوج کی ترجیح اہلکاروں، ان کے خاندانوں اور مقامی برادری کی فلاح ہے۔ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ وین رائٹ کی میونسپل انتظامیہ کے مطابق تیز ہواؤں سے آگ اڈے کی حدود سے باہر پھیلی، تاہم بعد میں اسے قابو میں لا لیا گیا اور کسی علاقے کو خالی کرانے کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔

وین رائٹ اڈہ البرٹا کے دارالحکومت ایڈمنٹن سے تقریباً دو سو کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اے ایف پی کے مطابق آگ کی وجہ سے وین رائٹ میں البرٹا کی آزادی سے متعلق مجوزہ ریفرنڈم کی ایڈوانس ووٹنگ کا مرکز بھی بند کرنا پڑا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ انہیں حالیہ برسوں میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ یاد نہیں۔

ذرائع: سی بی سی نیوز، سی این این، گلوبل نیوز، اے ایف پی بذریعہ ڈان، اناطولیہ بذریعہ ایکسپریس ٹریبیون

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔