لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں اتوار کو کھیلے گئے ٹرائی سیریز کے ایک روزہ میچ میں شاداب خان نے اپنی پہلی ایک روزہ سنچری کے ذریعے پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف ایک وکٹ سے ناقابلِ یقین فتح دلا دی۔ پاکستان نے 242 رنز کا ہدف 47.1 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 243 رنز بنا کر حاصل کیا اور 31 اکتوبر کو ہونے والے فائنل میں جگہ پکی کر لی۔ ڈان کے مطابق شاداب 96 گیندوں پر 113 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔
پاکستان کی بیٹنگ کا آغاز مایوس کن رہا۔ فخر زمان دس، صائم ایوب چھ اور بابر اعظم دس رنز بنا کر سات اوورز کے اندر پویلین لوٹ گئے۔ حسن نواز 15 رنز بنا سکے، عرفات منہاس صرف ایک رن پر چلے گئے اور سلمان علی آغا 49 گیندوں پر 26 رنز کے بعد 121 کے مجموعی اسکور پر ڈاؤسن کا شکار بنے۔
جب شاداب 103 رنز پر پانچویں وکٹ گرنے کے بعد کریز پر آئے تو ٹیم مشکل میں تھی، اور 33.5 اوورز میں 154 رنز پر نو کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کو جیت کے لیے مزید 88 رنز درکار تھے۔ آخری وکٹ کے لیے حارث رؤف ایک سرے پر ڈٹ گئے، جبکہ شاداب نے کھل کر کھیلنا شروع کیا۔ انہوں نے 49 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور ڈاؤسن کو چوکے اور چھکے لگا کر دباؤ انگلینڈ کی طرف منتقل کر دیا۔
میچ کا سب سے ڈرامائی لمحہ اس وقت آیا جب پاکستان کو جیت کے لیے 27 رنز درکار تھے۔ شاداب نے گس ایٹکنسن کو چھکا لگایا، مگر اگلی ہی گیند پر امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ دے دیا۔ ریویو میں الٹرا ایج پر گیند کے بلے کو چھو کر گزرنے کا نشان نظر آیا اور فیصلہ تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد شاداب نے چوکے کے ساتھ 91 گیندوں پر اپنی پہلی ایک روزہ سنچری مکمل کی، پھر ایک اور چوکا اور ایک چھکا لگا کر ہدف قریب کر دیا۔ فتح کا آخری وار حارث رؤف نے ڈیبیو کرنے والے ہنری کروکمب کو سیدھا چوکا مار کر کیا۔
شاداب اور حارث کے درمیان دسویں وکٹ کی 89 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت کامیاب ایک روزہ تعاقب میں دسویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ ہے، جس نے 64 رنز کے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ شاداب کی اننگز میں 13 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے، جبکہ حارث نے 18 گیندوں پر تین رنز بنائے۔ شاداب آٹھویں یا اس سے نیچے کے نمبر پر ایک روزہ سنچری بنانے والے صرف تیسرے بلے باز بھی بن گئے۔
اس سے قبل انگلینڈ کی ٹیم 46.4 اوورز میں 241 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ شاہین شاہ آفریدی نے 46 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں اور انگلینڈ کو 19 پر تین اور 52 پر چار وکٹوں سے محروم کر دیا۔ اس مشکل صورتحال میں بین ڈکٹ نے 111 گیندوں پر 105 رنز بنائے، جو ان کی پانچویں ایک روزہ سنچری اور پاکستان کے خلاف پہلی سنچری تھی۔ سیم کرن نے 42 رنز بنا کر ان کا ساتھ دیا اور دونوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 93 رنز جوڑے۔ آخر میں ایٹکنسن 28 گیندوں پر 36 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔
ذرائع: ڈان (ڈان اسپورٹ)