پاکستان ریلویز نے مسلسل حادثات اور ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات کے بعد ہفتے کے روز 31 دسمبر تک ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس کے تحت افسران کی تمام سرکاری تعطیلات اور رخصتیں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے آپریشن میں موجود خامیاں جلد دور کی جا سکیں۔ ایمرجنسی کا اطلاق 24 اکتوبر سے ہو چکا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں متعدد ریل حادثات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں صرف جولائی کے دوران سات واقعات شامل ہیں۔ ڈان کی ایک متعلقہ خبر کے مطابق ملتان کے قریب ٹرین کے پٹری سے اترنے کے حالیہ واقعے میں پانچ افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ 31 دسمبر تک نہ وہ خود آرام کریں گے اور نہ متعلقہ افسران۔ ان کے مطابق جب تک مسافر ڈبوں، مال گاڑی کی ویگنوں، انجنوں، سگنل نظام اور دیگر ڈھانچے کی تمام خرابیاں دور نہیں ہو جاتیں، آپریشنز سے وابستہ کسی بھی افسر کو، بشمول ان کے، ہفتہ اور اتوار کی چھٹی نہیں ملے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
ایمرجنسی کے تحت میڈیکل کے علاوہ ہر قسم کی رخصت منسوخ ہے اور افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹرینوں کے آپریشن کی نگرانی میدان میں جا کر کریں۔ سول اور مکینیکل شعبوں کے چیف انجینئرز اور سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ روزانہ وزارت کو رپورٹ بھیجیں گے۔
ایک اور فیصلے کے تحت تمام افسران سرکاری دوروں کے لیے ریل گاڑی میں سفر کے پابند ہوں گے۔ ہفتے کو جاری مراسلے کے مطابق ان دوروں کے لیے ہوائی سفر کی اجازت ہوگی اور نہ اس کے اخراجات ادا کیے جائیں گے، جبکہ سرکاری گاڑیوں کا استعمال بھی ممنوع ہے۔ وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ وہ خود 31 دسمبر تک راولپنڈی سے لاہور ریل کار پر سفر کریں گے، اور ہوائی سفر صرف انتہائی ہنگامی صورت میں ہوگا۔
حنیف عباسی کے مطابق ڈمی، یعنی خراب یا بریک سے محروم، مسافر ڈبوں اور مال بردار ویگنوں کو 31 دسمبر تک سروس سے ہٹا کر مکمل قابلِ استعمال بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرزے، جن میں 36 ہزار بریک سلنڈر شامل ہیں، آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ وہ گزشتہ دس برس میں جمع ہونے والے مرمتی کام کے بیک لاگ کو ختم کر رہے ہیں اور جنوری سے تمام خراب ڈبے، ویگنیں اور انجن آپریشن کے قابل ہوں گے۔
وزیر نے بتایا کہ 1,546 ڈبوں اور ویگنوں کی صحت کا تجزیہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ باقی تقریباً تین ہزار کا معائنہ 10 نومبر تک مکمل ہوگا۔ جو پرزے مقامی سطح پر بن سکتے ہیں وہ ریلوے کی اپنی ورکشاپس میں تیار ہوں گے، جبکہ کنکریٹ اور لکڑی کے سلیپرز کی طلب 30 نومبر تک پوری کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق حادثات کی بڑی وجوہ میں بوسیدہ ہوتی پٹریاں، ڈمی ڈبوں اور ویگنوں کا استعمال، دستی پوائنٹ سسٹم یعنی کانٹا نظام، انسانی غلطی، ناکافی دیکھ بھال اور وسائل کی کمی شامل ہیں۔