منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ورلڈ بینک: پاکستان کو استحکام سے آگے بڑھ کر ساختی اصلاحات کی ضرورت، مالی سال 2027 میں شرحِ نمو 3.8 فیصد کا تخمینہ

ورلڈ بینک کی پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ کے مطابق مالی سال 2027 میں معاشی نمو 3.8 فیصد رہنے کا اندازہ ہے؛ بینک نے ملازمتوں اور آمدنی میں اضافے کے لیے ساختی اصلاحات تیز کرنے پر زور دیا۔
واشنگٹن میں ورلڈ بینک کی عمارت (فائل فوٹو)
فائل فوٹو — تصویر: AgnosticPreachersKid / Wikimedia Commons (CC BY-SA 3.0)

ورلڈ بینک نے اپنی تازہ پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم موجودہ رفتار سے ہونے والی ترقی ملازمتیں پیدا کرنے اور فی کس آمدنی بڑھانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ "اٹینگ ایسکیپ ویلاسٹی” کے عنوان سے اکتوبر 2026 کی اس رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ملک کو استحکام سے آگے بڑھ کر تیز اور پائیدار ترقی کے لیے ساختی اصلاحات کی طرف جانا ہوگا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق رپورٹ میں مالی سال 2027 کے لیے معاشی نمو کا اندازہ 3.8 فیصد لگایا گیا ہے، جبکہ بنیادی منظرنامے کے تحت مالی سال 2031 تک شرحِ نمو صرف 4.5 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق وسیع ساختی اصلاحات کی صورت میں یہ شرح 6 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے۔

ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں حقیقی مجموعی ملکی پیداوار کی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی، جو مالی سال 2025 میں 3.2 فیصد تھی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق حقیقی فی کس آمدنی میں اضافہ تقریباً 1.6 فیصد پر اٹکا ہوا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ معاشی فوائد کو بہتر معیارِ زندگی میں بدلنے کی ضرورت ہے۔

ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان بولورما امگابازار نے کہا کہ پاکستان نے استحکام کی بحالی میں حقیقی پیش رفت کی ہے اور مارکیٹوں نے اس کا نوٹس لیا ہے، جبکہ اب تیز رفتار ترقی کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔ رپورٹ کے متن کے مطابق اگست میں موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ Caa1 سے بہتر کر کے B3 کی، جبکہ ستمبر 2026 میں پاکستان نے یورو بانڈ کے اجرا کی منڈی میں واپسی کی۔

بینک کے مطابق اگر پاکستان اپنی پالیسیوں اور اداروں کو متوسط آمدنی والے ممالک کی اوسط سطح تک بہتر بنائے تو پائیدار سالانہ ترقی 6.2 سے 6.9 فیصد تک ہو سکتی ہے، جس سے ملک 2050 تک ویتنام کی موجودہ آمدنی کی سطح تک پہنچ سکتا ہے اور آمدنی تین گنا ہو سکتی ہے۔ پاک ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک ممکنہ راستے کی نشاندہی ہے، اس بات کی پیش گوئی نہیں کہ آمدنی خود بخود اسی رفتار سے بڑھے گی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ورلڈ بینک نے کہا کہ موجودہ شرحِ نمو 36 لاکھ افراد کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ بینک نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ آئی ایم ایف کا موجودہ پروگرام ستمبر 2027 میں ختم ہو رہا ہے اور قومی انتخابات 2029 کے اوائل میں متوقع ہیں، اس لیے میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے والے درمیانی مدت کے مالی منصوبے کی تیاری، اشاعت اور مؤثر نفاذ ضروری ہے۔

رپورٹوں کے مطابق خطرات بھی موجود ہیں۔ شفقنا کی رپورٹ میں مہنگائی کا تخمینہ رواں مالی سال کے لیے 8.2 فیصد بتایا گیا ہے، جبکہ منٹ میرر کے مطابق آئی ایم ایف نے اپریل میں مالی سال 2027 کے لیے 3.5 فیصد نمو اور 8.4 فیصد مہنگائی کا اندازہ دیا تھا۔ ورلڈ بینک کے میکرو پاورٹی آؤٹ لک کے حوالے سے شائع رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ علاقائی تنازع کے طول پکڑنے اور شدید موسمی حالات، بشمول ایل نینو کے خطرے، سے معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

ذرائع: بزنس ریکارڈر، ایکسپریس ٹریبیون، ڈیلی ٹائمز، منٹ میرر، پاک ٹریبیون، ورلڈ بینک (رپورٹ)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔