منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

وزارتِ اطلاعات کا طالبان اور خلیل زاد کو جواب: ’پاکستان کے خدشات قیاس پر مبنی نہیں‘، ٹی ٹی پی کی موجودگی پر رپورٹس کا حوالہ

وزارتِ اطلاعات نے افغان طالبان کے بیان اور زلمے خلیل زاد کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور امریکی رپورٹس کا حوالہ دیا؛ طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی نہیں چاہتے۔
طورخم کی پاک افغان سرحدی گزرگاہ (فائل فوٹو، 2013؛ یہ تصویر حالیہ واقعے کی نہیں)
طورخم کی پاک افغان سرحدی گزرگاہ (فائل فوٹو، 2013؛ یہ تصویر حالیہ واقعے کی نہیں)

وزارتِ اطلاعات نے ہفتے کے روز افغان طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ ان کے پاس دوسرے ممالک میں بدامنی پھیلانے کی صلاحیت یا وسائل موجود نہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ پاکستان کے دیرینہ اور جائز سکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے توجہ ہٹانے والے الزامات کا سہارا لے رہی ہے۔ ڈان کے مطابق اسی روز وزارت نے سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے اس دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیا کہ پاکستان افغانوں کو طالبان کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح کر رہا ہے۔

اس سے ایک رات قبل طالبان انتظامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر کہا تھا کہ پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا یا وہاں عدم استحکام کی حمایت کرنا ان کے ملک کے مفاد میں نہیں، اور طالبان کے پاس دوسرے ممالک میں شورش کو ہوا دینے یا اس کی مالی معاونت کے وسائل نہیں ہیں۔

وزارت نے جواب میں کہا کہ پاکستان کے خدشات قیاس پر مبنی نہیں بلکہ دستاویزی ہیں۔ تائید میں اس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی سولھویں رپورٹ اور امریکی کانگریس کو پیش کی گئی جنوری تا مارچ 2026 کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس کے مطابق طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے سرگرم رہنے کی اجازت دیتے رہے اور اس کی تعداد چار سے چھ ہزار جنگجو بتائی گئی۔

وزارت نے کہا کہ سرحد پار سے مسلح افراد کی دراندازی کی بار بار کوششیں اور غیر ملکی ساختہ اسلحے کی برآمدگی سنجیدہ جانچ کا تقاضا کرتی ہیں، جبکہ قندھار سمیت طالبان کے بعض عہدیداروں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی تشویش ہے۔ وزارت کے مطابق پاکستان کے حفاظتی اقدامات دہشت گرد خطرات کے خلاف ہیں، افغان عوام کے خلاف نہیں۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ طالبان انتظامیہ ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی اور ان کے ہم خیال گروہوں کے لیے ہر قسم کی حمایت ختم کرے۔ ساتھ ہی وزارت نے کہا کہ اسلام آباد باہمی احترام، قابلِ تصدیق وعدوں اور ٹھوس عملی اقدامات کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اپنے شہریوں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

خلیل زاد، جو ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ میں افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ رہے، نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ کئی رپورٹس کے مطابق پاکستان افغانوں کو طالبان سے لڑنے کے لیے مسلح کر رہا ہے، اور یہ کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ وزارت کی فیکٹ چیک ٹیم نے ان دعووں کو قیاس پر مبنی بیانیے کی تکرار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔

ڈان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کئی برس سے کشیدہ ہیں اور اسلام آباد بارہا کابل سے ٹی ٹی پی کے ٹھکانے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ اپیلیں سنی نہیں گئیں۔ ستمبر میں خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقے میں فضائی کارروائیاں کیں، جس کے بعد ڈرون دراندازی کی اطلاعات آئیں جنہیں اسلام آباد کے مطابق مار گرایا گیا، اور مزید دو بار جوابی فضائی حملے کیے گئے۔

ذرائع: ڈان (نیوز ڈیسک)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔