منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو: ماہرین کی اکثریت 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی منتظر، صنعتکار کمی کے حامی

مہنگائی کے دباؤ اور تیل کی بلند قیمتوں کے درمیان اسٹیٹ بینک کا اجلاس پیر کو ہوگا؛ بینکار 50 سے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کے حق میں جبکہ صنعتی تنظیمیں شرحِ سود کم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پرانی عمارت، جو اب اسٹیٹ بینک میوزیم کہلاتی ہے
کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پرانی عمارت، جو اب اسٹیٹ بینک میوزیم کہلاتی ہے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہو رہا ہے اور مالیاتی منڈیوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ مرکزی بینک شرحِ سود میں کتنا اضافہ کرے گا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث تیل کی درآمدات مہنگی ہونے سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، اور معاشی حلقوں کی جانب سے شرحِ سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ اس وقت پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ قریب ہے۔ سینئر بینکار راشد مسعود عالم نے کہا کہ انہیں اسی اضافے کا یقین ہے، تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو میں لانے کے لیے منڈی کو 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کا خدشہ بھی ایسا عنصر ہے جو مہنگائی کو مزید بڑھا کر مرکزی بینک کو شرح بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں صارف قیمتوں کی مہنگائی 10.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 4.3 فیصد تھی۔ ڈان کی 23 اکتوبر کی ایک اور رپورٹ کے مطابق آٹے کی قیمتیں بڑھنے سے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 11.85 فیصد ہو گئی، جو کئی ہفتوں سے دوہرے ہندسوں میں ہے۔ اسی دوران برینٹ خام تیل 114.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، جو مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

ٹریس مارک کے چیف ایگزیکٹو فیصل مامسا نے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کو معقول درمیانی راستہ قرار دیا، جو بدلتے خطرات کا اعتراف بھی ہے اور معاشی نمو کو غیر ضروری نقصان سے بھی بچاتا ہے۔ ان کے مطابق 100 بیسس پوائنٹس اضافے سے حکومت اور نجی شعبے کے قرض کی لاگت بڑھے گی جبکہ اضافی فائدہ محدود ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان استحکام برقرار رکھنے میں بہتر ہوا ہے، لیکن اب استحکام کھوئے بغیر ترقی کا راستہ بھی تلاش کرنا ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی ریزرو بینک سمیت تمام اہم مرکزی بینک شرحِ سود بڑھا چکے ہیں، جبکہ آئی ایم ایف کو توقع ہے کہ عالمی مہنگائی 2026 میں 4.7 فیصد اور 2027 میں 4.1 فیصد رہے گی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں جنگ کی شدت، تیل کی بڑھتی قیمتیں اور شپنگ لاگت کی بلند ترین سطح برآمدات اور درآمدات دونوں کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔

دوسری جانب صنعتی حلقے شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم مکاتی نے کہا کہ محض مہنگائی کنٹرول کرنے کے نام پر شرحِ سود بڑھانا مؤثر ثابت نہیں ہوگا اور اس کا بوجھ تاجروں اور صنعتکاروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری نے بھی شرحِ سود سنگل ڈیجٹ پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مرکزی بینک نے رواں سال اپریل میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے پیشِ نظر پالیسی ریٹ 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.5 فیصد کیا تھا، جبکہ جون میں اسے برقرار رکھا گیا تھا۔ ڈان کے مطابق تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مرکزی بینک شرحِ سود بڑھانے اور معاشی نمو میں طویل انتظار کی پیش رفت کے درمیان کھڑا ہے۔

ذرائع: ڈان (شاہد اقبال)، ڈان: ہفتہ وار مہنگائی، ڈان: برینٹ خام تیل، اے آر وائی نیوز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔