منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین

کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی اسپیشل اکنامک زون کا درجہ دینے کی منظوری

وفاقی حکومت نے ایس ای زیڈز کے بورڈ آف اپروولز کے اجلاس میں کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی اسپیشل اکنامک زون قرار دینے کی منظوری دی؛ بورڈ نے ایس ای زیڈ ایکٹ کے تحت سہولتوں اور پنجاب کے لیے لینڈ لیز پالیسی کی بھی منظوری دی۔
کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ کا ایک منظر (علامتی تصویر؛ کراچی انڈسٹریل پارک کی نہیں)
علامتی تصویر — تصویر: Crosji / Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)

وفاقی حکومت نے کراچی انڈسٹریل پارک (کے آئی پی) کو وفاقی اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) کا درجہ دینے کی منظوری دے دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد برآمدات پر مبنی صنعتی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

یہ فیصلہ جمعے کو اسلام آباد میں ایس ای زیڈز کے بورڈ آف اپروولز کے 11ویں اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس میں صنعتی سرمایہ کاری کو سہولت دینے، انفرااسٹرکچر کی فراہمی بہتر بنانے اور صنعتی زمین کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ سرکاری اعلان کے مطابق بورڈ نے کے آئی پی کو وفاقی ایس ای زیڈ قرار دینے کی درخواست منظور کی۔

بورڈ نے نجی طور پر قائم کیے گئے ایس ای زیڈز کے لیے ایس ای زیڈ ایکٹ 2012 کے تحت حکومتی فنڈنگ سے مقررہ زیرو پوائنٹ تک یوٹیلیٹیز اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے کے جنرل ایلیجبلٹی کرائٹیریا کی بھی منظوری دی۔ یہ معیار کیس بائی کیس بنیاد پر سڑک تک رسائی، یوٹیلیٹیز اور دیگر ضروری سہولتیں حکومتی خرچ پر فراہم کرنے پر غور کا ایک فریم ورک طے کرتا ہے۔

اسی طرح بورڈ نے پنجاب میں سرکاری شعبے کے ایس ای زیڈز اور صنعتی اسٹیٹس کے لیے لینڈ لیز پالیسی کی منظوری بھی دی۔ سرکاری اعلان کے مطابق اس پالیسی کا مقصد طویل مدتی لیز کے ذریعے صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، زمین کی ابتدائی لاگت کم کرنا اور سرکاری شعبے کی صنعتی زمین کا بہترین استعمال یقینی بنانا ہے، جبکہ اہم شعبوں اور زیادہ برآمدی صلاحیت رکھنے والی نئی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی پیشِ نظر ہے۔

کراچی انڈسٹریل پارک کا منصوبہ نیا نہیں ہے۔ پاکستان ٹوڈے کے پرافٹ کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر دو مراحل میں ایس ای زیڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس میں اسٹیل ملز کی 4 ہزار 875 ایکڑ اور کے آئی پی کی ایک ہزار 534 ایکڑ زمین، یعنی تقریباً 6 ہزار 409 ایکڑ، کو یکجا کر کے ایک وفاقی ایس ای زیڈ بنانے کی تجویز تھی۔ اس رپورٹ میں پہلے مرحلے کے لیے تقریباً 30 ارب روپے کی وفاقی فنڈنگ کا ذکر بھی تھا، جو پی سی ون کی منظوری سے مشروط تھی۔ یہ تفصیلات اس وقت کے منصوبے کی ہیں اور حالیہ منظوری کے سرکاری اعلان میں شامل نہیں۔

پروپاکستانی کی 18 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے پارک کی ترقی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی تھی، جس میں لینڈ لیز ماڈل اور مراعاتی ڈھانچہ حتمی مراحل میں بتایا گیا۔ اجلاس میں ان صنعتی یونٹس کو ترجیح دینے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں جو اپنی پیداوار کا 50 فیصد سے زیادہ برآمد کر سکیں۔

ذرائع: ڈان، پرافٹ / پاکستان ٹوڈے، پروپاکستانی

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔