جمعرات، 29 اکتوبر 2026

آسٹریلیا: گاڑی سے ٹکر کے حملے میں زخمی آزاد رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئیں

پولیس نے وانگاراٹا میں ان کے دفتر کے قریب ہونے والے واقعے کو ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا، 43 سالہ ملزم پر سرکاری عہدیدار کو نقصان پہنچانے سمیت متعدد فرد جرم عائد۔
آسٹریلوی رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز (فائل فوٹو، 2022)
فائل فوٹو — تصویر: Alison Newman / Wikimedia Commons (CC0)

آسٹریلیا کی آزاد رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز کی دونوں ٹانگیں اس وقت کاٹنا پڑ گئیں جب انہیں ان کے دفتر کے قریب ایک گاڑی نے ٹکر مار دی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے اس واقعے کو ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا ہے۔ ہیلن ہینز شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والی رکن پارلیمنٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں، اور وہ وفاقی پارلیمنٹ میں انڈی کے حلقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ وہ پہلی بار 2019 میں آزاد امیدوار کے طور پر اس نشست سے منتخب ہوئیں اور سیاست میں آنے سے پہلے نرس اور مڈوائف کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ دیہی علاقوں کی صحت اور بنیادی سہولتوں کے مسائل ان کی سیاست کا اہم حصہ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز ریاست وکٹوریا کے قصبے وانگاراٹا میں پیش آیا، جو ریاستی دارالحکومت میلبورن سے دو سو کلومیٹر سے کچھ زیادہ فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔ ان کے شوہر فل نے بتایا کہ کئی دن انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رہنے کے بعد سرجنوں کو ان کی دونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں۔ ان کے مطابق ہیلن ہینز اب میلبورن کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

پولیس نے اس واقعے میں 43 سالہ برینڈن نیوجنٹ کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے شدید زخمی کرنے، جان بوجھ کر شدید زخمی کرنے اور ایک سرکاری عہدیدار کو نقصان پہنچانے کے وفاقی جرم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ آخری جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید ہے۔ ملزم بدھ کو پہلی بار عدالت میں پیش ہوئے، تاہم حملے کے محرکات کے بارے میں اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

وزیراعظم اینتھونی البانیز نے ہیلن ہینز کو خراج تحسین پیش کرنے والوں کی قیادت کی۔ اے ایف پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی شہریوں کو ماحول میں کشیدگی کم کرنی چاہیے اور سیاسی تقسیم کے بجائے احترام کے ساتھ اختلاف رائے کو اپنانا چاہیے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور ہیلن ہینز کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

آسٹریلیا میں سیاستدانوں کے خلاف تشدد کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں، تاہم اے ایف پی کے مطابق پولیس نے حالیہ برسوں میں منتخب نمائندوں کو ملنے والی دھمکیوں اور بدسلوکی میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک میں ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، اور مختلف حلقوں سے ارکان کے دفاتر کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کے نشریاتی ادارے ون نیوز اور جنوبی افریقہ کے اخبار ٹائمز لائیو نے بھی حملے کے بعد ہیلن ہینز کی تشویشناک حالت، سرجری اور مشتبہ کی گرفتاری کی خبریں شائع کیں۔ مقدمے کی اگلی سماعت اور تحقیقات میں مزید پیش رفت سامنے آنے پر صورتحال زیادہ واضح ہو سکے گی، جبکہ ملزم کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

ذرائع: AFP via Dawn، 1News، TimesLIVE

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔