ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے۔ پولیس کے حوالے سے ڈان کی رپورٹ کے مطابق قریشی موڑ کے قریب نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چار اہلکار شہید ہوئے، جبکہ مفتی محمود چوک بائی پاس کے قریب ہائی وے ٹریفک پولیس کی موبائل پر فائرنگ سے گاڑی چلانے والا اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ زخمی اہلکار کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔
ضلعی پولیس افسر ضیاء الدین احمد نے ڈان کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے چار ایف بی آر اہلکاروں میں سے دو کنٹریکٹ پر تعینات تھے۔ حملہ آور فرار ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے علاقوں کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا اور واقعات کی تحقیقات جاری ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی ابتدائی رپورٹ میں ہلاک شدگان میں دو ایف بی آر اہلکاروں اور دو شہریوں کا ذکر کیا گیا تھا، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد اور شناخت سے متعلق رپورٹس میں فرق موجود ہے۔
ڈان کے مطابق ضلع بھر میں تین روز سے معطل موبائل فون سروس منگل کو بحال کر دی گئی؛ حکام نے سروس کی معطلی کو ان حملوں سے عوامی سطح پر نہیں جوڑا۔ اسی دوران ایکسپریس ٹریبیون نے بنوں سے پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وہاں پانچ افراد کی لاشیں گولیوں کے زخموں کے ساتھ ملی ہیں، تاہم قتل کی وجہ اور حالات واضح نہیں۔ اخبار کے مطابق بنوں میں فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ ضلع ٹانک میں تین افراد کے مبینہ اغوا کی اطلاع ہے۔ ڈان نے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ستمبر میں ملک بھر میں 225 عسکریت پسند حملے ہوئے جو گزشتہ 12 برس میں کسی ایک ماہ کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، ایکسپریس ٹریبیون (بنوں)